فرانس اور سعودی عرب ایران کی ’’ توسیع پسندی‘‘ کو روک لگانے پر متفق

ایران کی بیلسٹک سرگرمی اور توسیع پسندانہ عزائم کو محدود کرنے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے: صدر ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے سعودی عرب کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں ایران کی توسیع پسندی کو روک لگانے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے جنگ زدہ یمن کے لیے ایک عالمی امدادی کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عمانو ایل ماکروں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر پیرس میں نیوزکانفرنس میں ایران کی بیلسٹک سرگرمی اور علاقائی توسیع پسندی کو روک لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’اس تزویراتی ویژن کا مطلب توسیع پسند سیاسی اسلام کے تمام منصوبوں کو محدود کرنا ہے کیونکہ وہ دہشت گردی کی دوسری شکلوں کی غذا بن سکتے ہیں اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتے ہیں ‘‘۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’’ ہم اس نکتے پر بہت چوکنا رہیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم ایسی کسی بیلسٹک سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے جس سے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیں ‘‘۔

صدر ماکروں نے کہا کہ فرانس اگر باغیوں کے کنٹرول والے شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں کے رد عمل میں شامی رجیم کے خلاف کسی کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اس کی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’’وہ اس ضمن میں آیندہ دنوں میں اپنے ردعمل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے لیکن ہمارے فیصلے کا ہدف رجیم کے اتحادی نہیں ہوں گے یا کسی پر بھی ہم حملہ آور نہیں ہوں گے بلکہ ہم صرف اسد رجیم کی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو نشانہ بنائیں گے‘‘۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں