کیا ترکی ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں غیرموثر بنانے میں مدد دے گا؟
سنہ 2015ء کو ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے سے قبل کئی سال تک ترکی نے ایران پر عاید کردہ عالمی پابندیوں کو غیرموثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترکی کے غیر سرکاری ادارے اور نجی سیکٹر نے اقتصادی ناکہ بندی کی دیوار کو پھلانگنے میں ایران کی ہرممکن مدد کی۔ ایرانی اور غیرملکی تجزیہ نگار تسلیم کرتے ہیں کہ ترکی نے ایران کے ساتھ اختلافات کے علی الرغم تہران کو ہر ممکن معاشی اور اقتصادی فایدہ پہنچنے کی کوشش کی۔
فارسی ویب سائیٹ ’تابناک‘ پر شائع ہونےوالے ایرانی اقتصادی تجزیہ نگار ڈاکٹر ولی گل محمد نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ چھ اگست کوٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عاید کردہ تازہ معاشی پابندیوں کے بعد ترکی ایک بار پھر ایران کے لیے معاشی سہولت کار کے طور پر سرگرم ہوسکتا ہے۔
مسٹر گل محمد نے کہا ہے کہ ترکی نے ماضی میں بھی مغرب کے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے غیرسرکاری چینلز کا استعمال کرکے ایران درآمدات و برآمدات کا تحفظ کیا اور تہران کو 20 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا۔
ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کے بعد تو گویا ترکی کو ایران میں معاشی اور تجارتی میدان میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ پابندیاں اٹھتے ہی ترکی نے ایران میں اپنی 300 کمپنیاں بھیجیں اور ترکی کے چار ہزار تجارتی وفود نے تہران کےدورے کیے۔
حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے طے پائے سمجھوتے سے علاحدگی اور ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تو ترکی نے کھل کر امریکی پابندیوں کی مخالفت کی۔ مگر ترکی اب دوراہے پر کھڑا ہے۔ انقرہ کو یہ فیصلہ کرنا ہے اسے ایران کےساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کرنا ہے یا امریکی پابندیوں کی تلوار کا سامنا کرنا ہے۔
تابناک ویب سائیٹ نے استفسار کیا ہے کہ آیا ترکی ایران پرامریکی پابندیوں کے خلاف کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہو گا؟ ایسی صورت میں ترکی تہران پر پابندیوں کو کس حد تک غیر موثر بنا سکتا ہے۔
سنہ 2012ء کو ایران اور ترکی کا دو طرفہ تجارتی حجم 22 ارب ڈالر تھا۔ ترکی سے سونے کی بھاری مقدار ایران کو فروخت کی جا رہی تھی تاہم سنہ 2015ء کو جب ایران اور دوسرے ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تو ترکی اور ایران کے درمیان سونے کی تجارت کےحجم میں کمی آگئی۔ سنہ 2016ء میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک رہ گیا۔ عراق اور شام کے بارے میں دونوں ملکوں کے باہمی اختلافات کے باوجود تہران اور انقرہ کے درمیان تجارتی تعاون جاری رہا ہے۔
حالیہ ایک عشرےمیں ترکی کو بھی معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترکی لیرہ غیرملکی کرنسی کےمقابلے میں بہت گراوٹ کا شکار رہا ہے۔ رواں سال کے دوران ترک لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں 20 فی صد کمی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کا غیرملکی قرضے کا حجم 4 کھرب ڈالرکے برابر ہے مگر ترکی ایران پر امریکی پابندیوں سے فائدہ اٹھا کر تہران کے ساتھ تجارت کو بڑھا سکتا ہے۔
-
ایران کوعالمی پابندیوں سے بچانے کے لئےعراقی ملیشیائیں سرگرم ہو گئیں
امریکی پابندیوں پرعراقی حکومت کا ردعمل شرمناک اور امریکی حمایت کا مظہر ہے
مشرق وسطی -
ایران سے قدرتی گیس کی خریداری جاری رکھیں گے: ترکی
ترکی کے وزیر توانائی فاتح دون میز کا کہنا ہے کہ ترکی رسد کے طویل المدت معاہدے کے ...
بين الاقوامى -
ایران پر جانب دارانہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں: چین
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے حوالے سے چین نے اپنے ردّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے ...
بين الاقوامى