ایران میں زیر حراست انسانی حقوق کی علمبردار خاتون کا خاوند بھی گرفتار
ایران میں حکام نے انسانی حقوق کی زیر حراست علمبردار اور معروف وکیل نسرین ستودہ کے خاوند کو بھی منگل کے روز گرفتار کر لیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو ستودہ کے خاوند رضا خندان کی گرفتار ی کی اطلاع دی ہے لیکن ایرانی حکام نے اس اطلاع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
رضا اپنی اہلیہ کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ انھوں نے سوموار کو اپنے فیس بُک صفحے پر یہ اطلاع دی تھی کہ انھیں انٹیلی جنس کی وزارت نے پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا ہے لیکن جب انھوں نے اس طلبی پر اعتراض کیا تو انھیں کہا گیا :’’ پھر آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا‘‘۔
نیویارک میں قائم مرکز برائے انسانی حقوق ایران کے مطابق 55 سالہ نسرین ستودہ عوامی مقامات پر ضابطہ لباس کے خلاف احتجاج کے طور پر سرپوش اتا ر دینے والی خواتین اور انسانی حقوق کی کارکنان کے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں بہ طور وکیل پیش ہوتی رہی ہیں۔
انھیں قبل ازیں 2010ء میں پروپیگنڈے کی تشہیر اور ریاستی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر چھے سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں قید کی تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد 2013ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔
انھیں جون میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا ۔اس وقت ان کے خاوند رضا خندان نے ایرانی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ کے خلاف سکیورٹی سے متعلق الزامات عاید کیے گئے ہیں۔
ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے لیے ریسرچ اور ایڈووکیسی ڈائریکٹر فلپ لوتھر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ پہلے ایرانی حکام نے نسرین ستودہ کو جعلی الزامات پر جیل میں ڈال دیا، پھر ان کے خاندان اور دوستوں کو ہراساں کیا اور ڈرایا دھمکایا ۔ اب ان کے خاوند کو گرفتار کر لیا ہے‘‘۔
نسرین ستودہ نے اگست میں انسانی حقوق کے معروف کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جیل میں بھوک ہڑتال کردی تھی اور ایرانی سکیورٹی فورسز پر اپنے خاندان کے افراد کو ہراساں کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ خود انھیں بھی جیل میں ہراساں کیا جارہا ہے۔