میانمار کی حکومت اور فوج آزادی صحافت کا گلا گھونٹ رہی ہے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے انسان حقوق کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں میانمار کی فوج اور حکومت پر صحافتی حقوق اور آزادی صحافت کو دبانے کا الزام عاید کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج اور حکومت پراسرار اور نام نہاد قوانین کی آڑ میں آزادی صحافت کو کچلنے، صحافیوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے، انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات چلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

’یواین ہیومن رائٹس سینٹر‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘کے دو نامہ نگاروں والون کیاؤ سوی پر ریاستی راز چوری کرنے اور انہیں سات سال قید کی سزا سنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صحافیوں کو برما کی فوج کے ہاتھوں 10 مسلمانوں کے قتل کی تحقیقات کے الزام میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ میانمار کی حکومت کے انتقامی اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت اور ملک کے سیکیورٹی ادارے آزادی اظہار رائے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے اور صحافتی آزادیوں کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔

دوسری جانب میانمار کی حکومت کا موقف ہے کہ ایک مقامی عدالت نے دو صحافیون کو سرکاری راز چوری کرنے کے الزام میں شفاف طریقے سے مقدمہ چلائے جانے کے بعد سزا سنائی ہے۔

میانمار کی وزارت خارجہ کے ترجمان مینٹ کیو نے اقوام متحدہ کی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں