ایرانی معیشت کا حال عوام کا پیسہ بشار پر لُٹانے کا انجام ہے : مائیک پومپیو
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے زبوں حالی کا شکار ہوتی ایرانی معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایرانی حکمراں نظام کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پومپیو کے مطابق ملک کے اندر ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مال خرچ کرنے کے بجائے عوام کا پیسہ بیرونی جنگوں کی فنڈنگ میں لُٹایا جا رہا ہے۔
پیر کی شام اپنی ٹوئیٹ میں امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ "آئی ایم ایف کے مطابق آئندہ سال ایران کی معیشت میں 3.6٪ کی کمی متوقع ہے"۔
The International Monetary Fund @IMFNews is projecting a 3.6% decline in #Iran’s economy next year. That’s what happens when the ruling regime steals from its people and invests in Assad—instead of creating jobs for Iranians, they ruin the economy.
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) October 29, 2018
پومپیو نے مزید کہا کہ "جب حکمراں نظام عوام کا مال چوری کر کے بشار الاسد کو سپورٹ کرے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایرانیوں کے لیے روزگار کے لیے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر رہے ہیں ، یہ لوگ معیشت کو تباہ کر رہے ہیں"۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سماجی، سیاسی اور انسانی حقوق کے پس منظر میں عوامی حلقوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ چار نومبر سے تہران پر امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ عوامی احتجاج میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ مذکورہ مرحلے کا مقصد ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کو صفر کر دینا ہے"۔
دوسری جانب ایران میں اصلاح پسندوں کی جانب سے بھی معیشت کی دگرگوں صورت حال کے حوالے سے متنبہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے آخری بیان سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
خاتمی نے 2017ء کے صدارتی نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر ملک میں حقیقی اصلاحات اور تبدیلی نہ لائی گئی تو عوام ایک نئے انقلاب پرمجبور ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ بحرانی صورت حال برقرار رہی تو ایران میں ایک نیا انقلاب یا بغاوت پھوٹ سکتی ہے۔ خاتمی نے حکمراں نظام کے ارباب اختیار پر زور دیا کہ وہ اصلاح پسندوں کے بات پر کان دھریں جو"اسلامی جمہوریہ اور انقلاب پر یقین رکھتے ہیں اور اندر سے ہی اصلاحات چاہتے ہیں"۔