مصر: ہتک آمیز برتاؤ سے دل برداشتہ طالبہ کی خود کشی
مصر کے شہر اسکندریہ میں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک طالبہ ادارے کی عمارت کی چوتھی منزل سے گر کر ہلاک ہو گئی۔ یہ واقعہ محرم بک کے علاقے میں پیش آیا۔
ابتدائی تحقیقات اور طالبہ کی ساتھی ہم جماعت لڑکیوں کے بیانات کے مطابق 22 سالہ ایمان صالح کو اس کے انسٹی ٹیوٹ کی بعض خواتین نگراں اہل کاروں کی جانب سے مسلسل برے برتاؤ اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اس کے سبب ایمان نے خود کشی کے ذریعے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مذکورہ نگراں خواتین کی جانب سے ایمان صالح کی رنگت کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور کبھی یہ بھی کہا جاتا کہ وہ شکل و صورت میں مردوں سے ملتی جلتی ہے۔
ایمان کی والدہ امینہ عبدالعزيز نے انسٹی ٹیوٹ کی 3 خواتین نگرانوں کو اپنی بیٹی کی خود کشی کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ امینہ کے مطابق ان کی بیٹی کا یہ ادارے میں آخری تعلیمی سال تھا۔ مذکورہ تینوں نگراں خواتین ایمان کے خلاف نہایت نامناسب الفاظ اور دل آزاری کے جملے استعمال کرتی تھیں۔
ایمان کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے چند ماہ قبل ادارے کی انتظامیہ کو تحریری شکایت پیش کی تھی تا کہ ان خواتین نگرانوں کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں۔ ایمان کی ساتھی طالبات نے انتظامیہ کے سامنے ایمان کی والدہ کے موقف کی تائید کی مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔
ساتھی طالبات کے مطابق ایمان کا تمام ہم جماعت لڑکیوں کے ساتھ اچھا تعلق تھا تاہم خواتین نگرانوں کے ہتک آمیز رویے سے دل برداشتہ ہو کر کئی بار خود کشی کی دھمکی دے چکی تھی۔
متعلقہ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کے واسطے انسٹی ٹیوٹ کے ذمے داران اور خواتین نگرانوں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ واقعے کے اسباب سامنے آ سکیں۔