قطر میں ترکی کی عسکری تنصیبات میں دوحہ کو داخلے کی اجازت نہیں
انقرہ اور دوحہ کے درمیان طے پانے والے خفیہ عسکری معاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قطر کی سرزمین پر تعینات ترک فوج کے عناصر کے زیر استعمال عمارتوں میں قطری حکام کو داخلے ، کنٹرول یا مداخلت کی کسی طور اجازت نہیں ہو گی۔ یہ امر دنیا بھر میں خود مختاری اور سیادت کے معروف معیار کی ایک اور پامالی ہے۔
اگرچہ سمجھوتے کے مطابق ترک فوج کے زیر استعمال آنے والی عمارتیں، جائیداد اور تنصیبات قطر کی ملکیت میں ہی رہیں گی مگر ساتھ یہ سمجھوتا ان تنصیبات میں قطری شہریوں یا حکام کی مداخلت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مزید برآں معاہدے کے متن کے مطابق "ان تنصیبات کا استعمال تُرکوں تک محدود رہے گا اور ان کے کسی طرح کے بھی استعمال کے واسطے قطر میں مقیم ترک جنرلوں کی منظوری لازم ہو گی"۔
معاہدے کی ایک کاپی "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو وصول ہوئی ہے۔ اس کے آرٹیکل 6 کے مطابق تُرک افواج کے لیے مخصوص ہر جائیداد، تنصیب یا مقام (اگرچہ وہ قطر کی ملکیت ہوں گی) خصوصی طور پر ترکی کی فوج اور اس کے فیصلوں کے زیر کنٹرول رہیں گے۔
معاہدے کے تحت قطر پر لازم ہو گا کہ جن علاقوں میں ترکی کی فوج موجود ہو اس میں سے کسی جگہ کو استعمال میں لانے یا وہاں داخل ہونے کے واسطے دوحہ کو "پیشگی تحریری منظوری" لینا ہو گی۔
دوحہ اور انقرہ کے درمیان خفیہ عسکری معاہدہ 28 اپریل 2016 کو طے پایا تھا۔ بعد ازاں جون 2017 میں ترک پارلیمنٹ کے ذریعے اس میں توسیع کر دی گئی۔ معاہدے کے تحت ہزاروں ترک فوجیوں کو قطر کی سرزمین پر تعینات کر دیا گیا۔ تاہم یہ اقدام خفیہ رہا ،،، یہاں تک کہ سویڈن کی ایک انگریزی نیوز ویب سائٹ نے یہ معاملہ افشا کر دیا۔ یہ معاہدہ 16 صفحات پر مشتمل ہے اور اس پر دونوں ملکوں کے وزراء دفاع کے دستخط بھی ہیں۔
-
آپ سے باہمی شراکت داری کے احترام کی توقع رکھتے ہیں : ترکی کا ٹرمپ کو جواب
ترکی میں ایوان صدارت کے ترجمان ابراہیم قالن نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکا دونوں ...
بين الاقوامى -
شام کے کُردوں پر حملہ کیا تو ترکی کی معیشت تباہ کر دیں گے : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی فوج کے انخلا کے ...
بين الاقوامى -
لیبیا میں شدت پسندوں کے لیے ترکی کی سپورٹ کے 4 میڈیا پلیٹ فارم
لیبیا کی مسلح افواج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان کرنل احمد المسماری نے ترکی سے ...
بين الاقوامى