امریکی انٹیلی جنس کے سابق افسر کا چین کے لیے جاسوسی کا اعتراف
امریکی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک سابق افسر نے چین کے لیے جاسوسی کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔
امریکی افسر رون ہینسن پر الزام ہے کہ اس نے امریکی خفیہ عسکری معلومات چین تک پہنچانے کی کوشش کی اور چینی حکومت کے واسطے کام کرنے کے بدلے "لاکھوں ڈالر" حاصل کیے۔
وزارت انصاف نے جمعے کے روز بتایا کہ چینی انٹیلی جنس نے ہینسن کو 2014 میں بھرتی کیا۔
امریکی ایف بی آئی نے گزشتہ برس جون میں ہینسن کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ چین جانے والے طیارے میں سوار ہونے کے لیے واشنگٹن کے سیئٹل – ٹاکوما بین الاقوامی ہوائی اڈے کے راستے میں تھا۔
ہینسن کو 15 برس تک کی جیل کی سزا کا سامنا ہے اور اس کے خلاف عدالتی فیصلہ 24 ستمبر کو جاری ہو گا۔
-
امریکا کے ساتھ جوہری بات چیت معطل کرنے پر غور جاری ہے : شمالی کوریا
شمالی کوریا کی نائب وزیر خارجہ چوئی سون ہوئی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ...
بين الاقوامى -
فلسطینی صدر نے انسانی حقوق رپورٹ میں لفظ’’مقبوضہ‘‘ حذف کرنے پر امریکا کی مذمت کردی
فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے امریکی محکمہ خارجہ کی ...
بين الاقوامى -
روسی میزائلوں کی خریداری سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں : ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے باور کرایا ہے کہ اُن کے ملک کی جانب سے S-400 روسی ...
بين الاقوامى