جرمنی : حزب اللہ پر پابندی کا معاملہ آج پارلیمنٹ میں زیر بحث
جرمن پارلیمنٹ آج جمعرات کے روز لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر پابندی کا معاملہ زیر بحث لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت دائیں بازو کی جماعت "متبادل برائے جرمنی" (اے ایف ڈی) کی درخواست پر سامنے آئی ہے۔
مذکورہ جماعت کے پارلیمانی بلاک نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کے لیے سفارش جاری کی جائے کہ عسکری اور سیاسی ونگ کی تفریق کے بغیر حزب اللہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے کیوں کہ یہ جرمنی کے لیے خطرہ ہے۔
اس سے قبل مقامی انٹیلی جنس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ 2018 میں جرمنی میں حزب اللہ کے ارکان کی تعداد 1050 تک پہنچ چکی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چند روز پہلے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ جرمنی بھی برطانیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حزب اللہ پر پابندی عائد کر دے گا۔
پومپیو نے باور کرایا کہ امریکا کو انسٹیکس کے نام سے معروف مالیاتی نظام پر اعتراض نہ ہو گا اگر یہ یورپیوں کے دعوے کے مطابق اس سامان کی تجارت کے واسطے استعمال ہو جو امریکی پابندیوں کے زمرے میں نہیں آتا۔
جرمن وزیر خارجہ ہائکو ماس کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ "ہم ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے واضح موقف کے حامل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض عناصر کی عملی سرزنش بھی کی گئی ہےـ
اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جانا چاہیے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے طریقہ کار میں اختلاف ہے"۔