ٹرمپ وزیر دفاع کے منصب پر مارک ایسپر کے تقرر کا ارادہ رکھتے ہیں: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج کے معاملات کے وزیر مارک ایسپر کو ملک کا وزیر دفاع مقرر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایسپر نے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن کے مستعفی ہونے کے بعد پیر کے روز قائم مقام وزیر دفاع کا منصب سنبھالا تھا۔ شناہن گھریلو تشدد کے متعلق میڈیا رپورٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد سبک دوش ہوئے۔
ایسپر کا تقرر اُن کے برسلز کے مقررہ دورے سے قبل عمل میں آیا ہے جہاں وہ رواں ماہ 26 اور 27 جون کو نیٹو کے وزراء دفاع کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ایسپر وہ تیسری شخصیت ہیں جو محض چھ ماہ کے اندر اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز بتایا تھا کہ وہ پینٹاکان کی قیادت کے لیے غالبا مارک ایسپر کو نامزد کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ڈیوڈ نورکوئسٹ کو نائب وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نورکوئسٹ اس وقت پینٹاگان میں بطور مبصر اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔
مارک ایسپر ریپبلکن پارٹی کے رکن کے طور پر سیاسی میدان میں بھی کام کر چکے ہیں۔
سابق امریکی دفاع جنرل جیمز میٹیس دسمبر 2018 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
-
ایران کے ساتھ جنگ ہوئی تو بڑے پیمانے پر'قتل عام' ہو گا: ٹرمپ
امریکا، موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ جنگ سے حتی المقدور بچنا چاہتا ہے
بين الاقوامى -
امریکا ایران کشیدگی، فضائی کمپنیوں نے آبنائے ہرمز سے پروازوں کا روٹ بدل دیا
متعدد یورپی ملکوں نے اپنی فضائی کمپنیوں کو بین الاقوامی آبی تجارتی گذرگاہ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب امریکا کا کلیدی سیکورٹی اتحادی ہے، اس کا ساتھ دینا ہوگا:امریکی عہدہ دار
امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے ...
بين الاقوامى