براعظم امریکا کے 31 ملکوں سے 'حزب اللہ' کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف عالمی سطح پر گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے۔ شدت پسند لبنانی تنظیم پر پابندیوں کے لیے براعظم امریکا کے ممالک بھی متحرک ہوگئے ہیں اور ارجنٹائن کی طرف سے حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرکے تنظیم کے اثاثے منجمد کرنا اہم پیش رفت بتائی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق امریکی براعظم کے 31 ممالک کی تنظیم 'آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس' یعنی 'OAS ' کے سیکرٹری جنرل لوئس الماگرو نے ایک بیان میں تنظیم کے 31 رکن ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ارجنٹائن کے نقش قدم پرچلتے ہوئے حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دے کر اس پرپابندیاں عاید کریں۔

الماگرو جو چار سال سے 'اے او ایس' کے سیکرٹری جنرل کے منصب پر تعینات ہیں حزب اور ایران کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں۔ انہوں‌ نے تنظیم کے ان اکتیس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیں جس طرح تین دوسرے ملکوں امریکا، ارجنٹائن اور کینیڈا حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔

ارجنٹائن کے اخبار'پاپولر' کی رپورٹ‌کے مطابق مسٹر الماگرو نے ارجنٹائن کی حکومت کی طرف سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے حزب اللہ کے عالمی نیٹ ورک کے گرد گھیرا تنگ کرنے بالخصوص امریکی ملکوں میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں‌نے یہ بیان ارجنٹائن میں یہودیوں کے ایک مذہبی مرکز پردہشت گردانہ حملے کی 25 ویں برسی کے موقع پر جاری کیا ہے۔

آج سے پچیس سال قبل 18 جوالئی 1994ء کو ایک ارجنٹائنی ۔ یہودی تنظیم کے مرکز پرہونے والے حملے میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے تھے۔ ارجنٹائن نےان حملوں کا الزام ایران اور حزب اللہ پرعاید کیا تھا تاہم وہ دونوں ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں