فلسطینی وادی اردن کا اسرائیل سے الحاق نامنظور: سعودی عرب
سعودی عرب نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس اعلان کو قانونی جواز سے عاری اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے اپنے ووٹرز سے دھمکی آمیز وعدہ کیا تھا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور بحیرۂ مردار کے شمالی علاقے کو اسرائیل میں ضم کر دیں گے۔ اس علاقے پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا جسے بین الاقوامی قانون میں کبھی جائز نہیں مانا گیا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق مملکت بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ اعلان فلسطینی عوام کے خلاف انتہائی سنگین جارحیت، اقوام متحدہ کے منشور، قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور ریاستی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ اس طرح کے دعوے، اعلانات اور دھمکیاں خطے میں دیرپا قیام امن کی کسی بھی کوشش کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہیں۔ لہٰذا انہیں قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بیان میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا گیا اسرائیل کی غلط پالیسیوں کے تحت فلسطینی عوام کے دیرینہ حقوق غصب کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ سعودی عرب، عالمی برادری،عالمی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس کی مذمت کریں۔ نیتن یاھو کے بیانیے کو مسترد کرنا اور فلسطینی قوم کے دیرینہ اور تاریخی حقوق کو نظرانداز کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنا ہوا گا۔
وادی اردن مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک تہائی رقبے پر پھیلا ہوا تزویراتی اہمیت کا وہ علاقہ ہے جس سے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی سیاست دان کبھی انخلاء کا سوچ نہیں سکتے۔
معاہدہ اوسلو کے تحت کی جانے والی تقسیم کی روشنی میں مغربی کنارے کے ’’سی ایریا‘‘ میں یہودی بستیاں قائم ہیں۔ یہ یہودی بستیاں وادی اردن سمیت علاقے کے 60 فیصد حصے پر بنائی گئی ہیں۔
سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کے ساتھ کہا ہے کہ عرب اور مسلم دنیا اس وقت بہت سارے مقامی اور علاقائی بحرانوں سے دوچار ہے۔ عرب اقوام اور اسلامی ممالک فلسطینی کاز کی حیثیت کو متاثر نہیں کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عرب اقوام ایسی کسی بھی کوشش کی حوصلہ شکنی کرے گی جس میں فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات اور ان کی خواہشات کو نظرانداز کیا جائے گا۔
سعودی عرب نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کے منصوبے کا مقابلہ کرنے، اس سے نمٹنے اور تنازع فلسطین کے حل کی کوششیں تیز کرنے کے ساتھ اسرائیل کے رویوں اور اقدامات پر گہری نظر رکھی جائے گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ 17 ستمبر کو کنیسٹ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کریں گے۔ نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا ، "ایک ہی جگہ ہے جہاں ہم انتخابات کے بعد ہی اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کر سکتے ہیں۔"