بھارت کے زیرانتظام متنازعہ ریاست کشمیر میں کریک ڈاؤن جاری، قریباً چار ہزار افراد گرفتار
بھارت کے زیرانتظام متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں قابض حکام نے حالیہ کریک ڈاؤن کے دوران میں قریباً چار ہزار افراد کو گرفتارکیا ہے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤکرنے والے عام افراد اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق پانچ اگست کے بعد تین ہزار آٹھ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے دوہزار چھے سو کو رہا کیا جاچکا ہے اور باقی بارہ سو سے زیادہ افراد بدستور جیلوں میں بند ہیں۔
برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کا کہنا ہے کہ بھارت کی وزارت داخلہ کی خاتون ترجمان اور جموں وکشمیر میں پولیس نے ان گرفتاریوں کے حوالے سے سوالوں کا کوئی جواب دیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ انھیں کس بنیاد پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد بھی زیرحراست رکھا جارہا ہے۔
تاہم ایک بھارتی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ انھیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کالے قانون کے تحت بھارتی حکام مقبوضہ جموں وکشمیر میں کسی بھی شہری کو کسی فردِ الزام کے بغیر دو سال تک زیرحراست رکھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے پانچ اگست کو متنازع ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت اور خود مختاری ختم کردی تھی اور ایک صدارتی آرڈی ننس کا نفاذ کیا تھا جس کے تحت اس ریاست میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جائیدادیں خرید کرسکتے ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جموں وکشمیر کو ملک کے باقی علاقوں سے مربوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے لیکن پاکستان اور کشمیریوں نے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ہل کشمیر تب سے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔بھارتی حکام نے ان کے احتجاج کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر پابندی عاید کررکھی ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں بھارتی حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق دو سو سے زیادہ سیاست دانوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے خلاف احتجاج کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں دو سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے مختلف کشمیری گروپوں اور تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک سو سے زیادہ لیڈروں اور سرکردہ کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔
باقی گرفتار کیے گئے تین ہزار سے زیادہ افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے والے یا شرپسند تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق گذشتہ اتوار کو پچاسی زیر حراست افراد کو بھارت کے شمالی شہر آگرہ میں واقع ایک جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ میں وادیِ کشمیر کے تیرہ پولیس اضلاع کا ڈیٹا شامل ہے۔اس کے مطابق سب سے زیادہ گرفتاریاں ریاست کے گرمائی دارالحکومت اور بڑے شہر سری نگر میں کی گئی ہیں اور وہاں سے گرفتار افراد کی تعداد قریباً ایک ہزار ہے۔
بھارتی سکیورٹی فورسز کے زیر حراست کشمیری سیاست دانوں میں اسّی سے زیادہ کا تعلق عوامی جمہوری پارٹی ، قریباً ستر کا تعلق نیشنل کانفرنس اور دس سے زیادہ کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت کانگریس سے ہے۔اس رپورٹ میں گھروں پر نظربند سیاسی شخصیات یا کارکنان کی تفصیل شامل نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی حکام کے حالیہ کریک ڈاؤن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ آکار پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ ’’(جموں وکشمیرمیں) ابلاغی بلیک آؤٹ ، سکیورٹی کلیمپ ڈاؤن اور سیاسی لیڈروں کی حراست نے خطے کو بدترین بنا دیا ہے۔‘‘