دنیا کو ایردوآن کی مطلق العنانیت کے سامنے متحد ہو جانا چاہیے : گولن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی میں کالعدم گولن موومنٹ کے سربراہ فتح اللہ گولن نے زور دیا ہے کہ "ایردوآن کی مطلق العنانیت" کے حوالے سے ایک یکساں عالمی موقف اپنایا جائے۔ ترک مبلغ اور سیاسی اپوزیشن شخصیت گولن نے کہا کہ "ایردوآن کسی کی بات پر کان نہیں دھرتے ،،، بالخصوص ہماری بات پر ،،، انہوں نے ہمارے خلاف عدالتی احکامات جاری کر رکھے ہیں وہ ہم پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہیں"۔

گولن کا یہ موقف دو روز قبل"Ten" سیٹلائٹ چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں سامنے آیا۔ یہ 2016 کے بعد کسی بھی چینل کے ساتھ پہلی گفتگو تھی۔ گولن کا کہنا تھا کہ "ایردوآن مجھ پر ذاتی طور پر الزام لگاتے ہیں کہ میں دہشت گردی کی جڑ ہوں۔ ان لوگوں نے میرے خلاف عمر قید کے متعدد عدالتی فیصلے جاری کیے ہیں"۔

البتہ گولن کے مطابق جمہوری ، مغربی اور اسلامی ممالک ایردوآن کے حوالے سے ایک یکساں متحد موقف اختیار کر سکتے ہیں تا کہ ایردوآن پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنی استبدادیت سے یوٹرن لینے پر مجبور کیا جا سکے۔

گولن نے واضح کیا کہ "یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ترکی میں حالیہ انارکی اور انتشار کو روکا جا سکتا ہے۔ اس بات سے مجھے ایک دوست نے آگاہ کیا جو ایردوآن کی حکومت میں پہلے سے وزیر خارجہ کے منصب پر فرائض انجام دے رہا تھا"۔

انقرہ حکومت فتح اللہ گولن پر الزام عائد کرتی ہے کہ 15 جولائی 2016 کو ایردوآن کا تختہ الٹنے کی کوشش کی منصوبہ بندی میں گولن کا ہاتھ ہے۔ اس کوشش میں ترکی کی فوج کا ایک حصہ بھی شریک تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں