امریکا کا شمالی شام میں اپنے بعض فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے پر غور

امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد شامی تیل کے وسائل کو داعش کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے:مارک ایسپر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع تیل کے کنووں کے نزدیک بعض امریکی فوجیوں کو بدستور تعینات رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔ یہ امریکی فوجی شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ مل کر تیل کے ان کنووں کی نگرانی کریں گے تاکہ داعش یا دوسرے گروپ ان پر قبضہ نہ کرسکیں۔

مارک ایسپر نے افغانستان میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت اس علاقے کے نزدیک مختلف شہروں میں ہمارے ( امریکی) فوجی موجود ہیں۔ان کی وہاں موجودگی کا مقصد تیل کی آمدن کو داعش یا دوسرے گروپوں کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے کیونکہ انھیں ان کی شرپسند سرگرمیوں کے لیے یہ مالی وسائل درکار ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ ’’بعض فوجیوں کو وہاں برقرار رکھنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے لیکن ان فوجیوں کی تعداد یا اس ضمن میں کسی اور معاملہ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شام کے شمال مشرقی علاقے سے امریکی فوجیوں کا انخلا جاری ہے لیکن ابھی آئیل فیلڈز کے نزدیک امریکی فوجی اپنی شراکتی فورسز کے ساتھ موجود ہیں اور ان کی تعیناتی برقرار رکھنے پر غور تو کیا جارہا ہے لیکن ابھی انھوں نے خود اس آپشن کو پیش نہیں کیا ہے لیکن پینٹاگان کا کام مختلف آپشنز پر غور کرنا ہے۔

مارک ایسپر اتوار کو افغانستان کے غیر علانیہ دورے پر کابل پہنچے تھے۔جولائی میں پینٹاگان کا سربراہ بننے کے بعد ان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں