عراقی عوام کی مزاحمت نفرت انگیز ایرانی نفوذ کے خلاف ہے : نیو یارک ٹائمز
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے عراق میں بڑے پیمانے پر جاری مظاہروں کو پہلی مرتبہ ایرانی نفرت انگیز تسلط اور نفوذ کے خلاف قرار دیا ہے۔ اخبار نے عندیہ دیا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کا منقطع ہونا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ یہ مظاہرے قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ اخبار کے مطابق عراق کی زیادہ تر وزارتیں ایرانی جماعتوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ اسی طرح ایران نے داعش تنظیم کے خلاف جنگ سے فائدہ اٹھایا اور عراقی ریاست کی جڑوں میں بیٹھ گیا۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ عراق میں احتجاج کا آغاز تقریبا ایک ماہ قبل خاموشی کے ساتھ ہوا۔ آہستہ آہستہ اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا اور گذشتہ ہفتے بغداد کے مظاہرے میں 2 لاکھ سے زیادہ عراقی شریک ہوئے۔ یہ عراق کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ یہ احتجاج عراحکومت اور غیر ملکی قابض طاقت کے خلاف تھا ،،، تاہم اس مرتبہ یہ غیر ملکی طاقت امریکا نہیں بلکہ ایران ہے۔
احتجاج کنندگان نے ایران کے خلاف اپنے غصے کا بھرپور اظہار کیا اور اُن عراقی جماعتوں کے خلاف بھی آواز لگائی جو ایران کے ساتھ مربوط ہیں۔ احتجاج کنندگان نے "بغداد حرة حرة، إيران برا برا" (بغداد آزاد آزاد ، ایران باہر باہر) کے نعرے بلند کیے۔ ایران مخالف جذبات کا یہ اظہار عراقی دارالحکومت کی سڑکوں اور میدانوں کے علاوہ کربلا شہر میں بھی پھیل گیا۔
عراقی نشینل آرکائیوز کے سابق سربراہ سعد اسکندر کے مطابق یہ انقلابی تحریک امریکا نہیں بلکہ ایران کے معاند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کنندگان بدعنوانی اور ایران نواز ملیشیاؤں سے تنگ آ چکے ہیں ، ان میں سے بعض ملیشیاؤں نے تو مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے۔
اگرچہ احتجاج کنندگان کے غم و غصے کا براہ راست ہدف ایران ہے ،،، تاہم بنیادی طور پر اس تنازعے کا ایک فریق عراقی نوجوان اور عمر رسیدہ نسل ہے جب کہ دوسرا فریق سیاسی اشرافیہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اگرچہ 2003 میں حملے کے بعد نافذ کردہ نظام عراقیوں کا وضع کردہ تھا جس پر عمل درامد امریکیوں نے ممکن بنایا ،،، تاہم اس نظام نے سیاسی اتھارٹی کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا۔ ایران نے اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے عراقی سیاست میں اپنے پاؤں جمانے کے لیے استعمال کیا۔
سال 2009 کے بعد عراق سے امریکی انخلا کے ساتھ ہی ایران سے تعلقات رکھنے والی عراقی جماعتوں نے حکومت کے اندر اپنے نیٹ ورک کو وسیع کر دیا۔ سال 2014 میں ایران نے داعش تنظیم کے خلاف جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ دہشت گرد تنظیم سے لڑنے کے لیے ملیشیا تشکیل دینے میں مدد کی۔ یہاں تک کہ 2018 کے دوران ایران کے ساتھ مربوط سیاسی جماعتوں کو عراقی حکومت میں کنٹرول حاصل ہو گیا۔
امریکی اخبار کے مطابق عراق کی حالیہ حکومت تشکیل پانے کے لیے ہونے والی ڈیل ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے توسط سے انجام پائی۔
علی جاسم ایک عراقی تعمیراتی ورکر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "عراق کا سارا بجٹ ایرانی پاسداران انقلاب کی سپورٹ کے لیے تہران کو چلا جاتا ہے۔ عراق میں تمام وزارتوں اور شہری تنصیبات کو ایران چلا رہا ہے۔ ہم اس حکومت سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنا وطن واپس چاہیے، ہمیں ایک خود مختار سربراہ چاہیے"۔
محمد الامین میڈیکل کے دوسرے سال کے طالب علم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہمارے والدین ہم سے کہا کرتے تھے کہ خاموش رہو ، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ... تاہم اب ہمارے پاس انٹرنیٹ ہے۔ ہم ایک مختلف زندگی چاہتے ہیں جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہوتی ہے ، ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں"۔
اخبار کا کہنا ہے کہ بدعنوانی سے نجات، سیاسی جماعتوں پر روک اور پارلیمانی نظام کے بدلے صدارتی نظام کے قیام سے متعلق مظاہرین کے مطالبات فی الوقت پورے ہونا کافی دشوار ہے کیوں کہ مظاہرین فوری نتائج کے خواہاں ہیں۔
احتجاج کنندگان کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند سیاست دان اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ مظاہرین کے بنیادی مطالبات مثلا نئے انتخابی قوانین اور نیا آئین وغیرہ ،،، ان کا راتوں رات پورا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ساتھ ہی سیاسی طبقے کا انداز احتجاج کنندگان کو بری طرح مایوس کر رہا ہے جن کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں عراق کے امور کی ایک اہم تجزیہ کار ماریا فنتابی کا کہنا ہے کہ "ملک میں سیاسی طبقہ ہے ، عوام ہیں اور سیکورٹی ادارہ ہے ... اور ان میں سے ہر کوئی انتہائی مصروف ہے"۔ ماریا کے مطابق احتجاج کنندگان یہ نہیں دیکھ رے کہ حتمی ہدف کیا ہو گا، وہ یقینا اس بات کی خوشی منا رہے ہیں کہ انہوں نے اس ضخیم احتجاجی تحریک کو جنم دے دیا۔
سیکورٹی فورسز کو بزور طاقت عوامی احتجاج کچلنے کی اجازت دینے پر عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے کے دوران 150 کے قریب احتجاج کنندگان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر گولیوں کا نشانہ بنے۔ اس کے علاوہ تقریبا 5500 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 1 ہزار سے زیادہ سیکورٹی فورسز کے اہل کار تھے۔
اس کے نتیجے میں لوگوں کی اور بڑی تعداد احتجاج کے لیے گھروں سے نکل آئی۔ ملک بھر میں مختلف مقامات پر ہونے والے مظاہروں میں شرکاء کی تعداد 20 سے 25 ہزار کے لگ بھگ ہو گئی جب کہ دارالحکومت بغداد میں مظاہرین کی تعداد 2 لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ پیر کے روز ایک بار پھر تشدد کی لہر نے سر اٹھایا جب سیکورٹی فورسز نے بغداد میں الاحرار پُل کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر گولی چلا دی۔ اس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہو گئے۔
عراقی وزیراعظم نے بہت سی تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود عراقیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ ان میں بجلی کی فراہمی، عراق کے کُردوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور بغداد کو تقسیم کرنے والی دیوار گرانا شامل ہے۔ تاہم وہ اب بھی ایک کمزور قائد ہیں جن کا موقف ایران کی جانب سے وضع کردہ سیاسی سمجھوتے کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
بدعنوانی عراق کے اندر گھر کر چکی ہے۔ یہاں تک کہ یہ اُن وزارتوں میں بھی پائی جاتی ہے جن کے بارے میں اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ ان کی انتظامیہ اچھی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق عراقی سیکورٹی فورسز بھی انقسام کا شکار ہیں اور یہ نچلے درجے اور سینئر افسران کے علاوہ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے بیچ ٹولیوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔
اس تقسیم کے باعث سیکورٹی اداروں میں مظاہرین سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے اختلاف دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثال اس وقت سامنے آئی جب فوج نے بغداد میں الترکی ریستوران کی عمارت پر قابض مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ فوجی افسران کو اندیشہ تھا کہ تطہیر کے عمل سے مزید خون ریزی ہو گی اور پھر زیادہ بڑے پیمانے پر احتجاج ہو گا۔
اگرچہ عراقی حکومت نے بتدریج انٹرنیٹ سروس کو بحال کر دیا ہے تاہم سوشل میڈیا مثلا فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ کی سروس پورے احتجاج کے دوران معطل رہی۔