اجودھیامیں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندرتعمیر ہوگا: بھارتی عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بھارت کی عدالتِ عظمیٰ نے اجودھیا میں شہید بابری مسجد کی متنازعہ جگہ کے بارے میں اپنا فیصلہ سنادیا ہے،وہاں رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا ہے اور قصبے میں بابری مسجد کی کسی اور جگہ تعمیر کے لیے حکومت کو اراضی مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے ہفتے کے روز اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ 1992ء میں 460 سالہ قدیم بابری مسجد کی مسماری قانون کی خلاف ورزی تھی۔ اس نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے کسی نمایاں مقام پر پانچ ایکڑ اراضی دی جائے۔

عدالتِ عظمیٰ کی پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے۔اس کیس میں فریق سنی مسلمانوں کے گروپ نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائرکرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے بعد ایک اور طویل عدالتی کارروائی چلنے کی توقع ہے۔اس گروپ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ یہ انصاف نہیں ہے۔‘‘

بھارتی اخبار دا ہندو کی رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے حکومت کو تین ماہ میں اجودھیا ایکٹ 1993ء کے تحت ایک اسکیم وضع کرنے اور ایک ٹرسٹ کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔جب تک یہ ٹرسٹ قائم نہیں ہوتا،اس وقت تک بابری مسجد کی جگہ مرکز کی ملکیت رہے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اے ایس آئی کی رپورٹ کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ بابری مسجد ایک خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔متنازعہ ڈھانچے کے نیچے بھی ایک ڈھانچا تھا اور یہ اسلامی نہیں تھا لیکن اس رپورٹ میں اس اہم سوال کا جواب نہیں دیا گیا تھا کہ آیا وہاں کسی مندر کو مسجد کی تعمیر کے لیے ڈھایا گیا تھا۔

بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگئی نے فیصلے میں کہا ہے کہ ''عدالت کو عقیدے اور عبادت گزاروں کے اعتقاد کو قبول کرنا چاہیے اورتوازن کو برقرار رکھنا چاہیے۔''

عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت ہندو قوم پرستوں کی ایک بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔نریندر مودی نے 2014ء میں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔انھوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عوام کے عدالتی عمل پر اعتقاد میں اضافہ ہوگا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اب ہمیں اس معاملے میں نئی شروعات کرنی چاہیے۔

پاکستان نے بھارتی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو بھارتی سیکولرازم کی موت قراردیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فیصلے کے وقت نامناسب قراردیتے ہوئے کہا کہ کیا اس کو چند روز کے لیے موخر نہیں کیا جاسکتا تھا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کرتار پور راہداری کا افتتاح کررہے تھے۔

یادرہے دسمبر 1992ء میں قریباً بیس ہزار انتہا پسند ہندوؤں نے اجودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔اس کے بعد بھارت بھر میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے۔ان میں دوہزار کے لگ بھگ افراد مارے گئے تھے اور ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔انتہا پسند ہندو بابری مسجد کی جگہ کو اپنے دیوتا رام کی جنم بھومی قراردیتے ہیں اور وہاں ایک نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں نے ماتحت عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس میں کئی سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا تھا۔اس عدالت نے 2010ء میں اجودھیا کی متنازعہ جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم سنایا تھا۔ان میں دوحصے ہندوؤں اور ایک حصہ مسلمانوں کو دینے کا حکم دیا تھا۔اس فیصلے کو دونوں فریقوں کی جانب ہندومہاسبھا اور سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے اعلان سے قبل نئی دہلی میں بینچ میں شامل پانچوں جج صاحبان کی قیام گاہوں کی سکیورٹی سخت کردی گئی تھی اور ریاست اترپردیش میں واقع قصبے اجودھیا میں مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں سے بچانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی ہندومسلم فسادات کو روکنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طورپر ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں