جوہری سمجھوتا ٹائیں ٹائیں فِش، ایران مزید انحرافی اقدام پر غور کررہا ہے: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی پاسداری سے انحراف کے لیے مزید اقدام پر غور کررہا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے سوموار کے روز کہا ہے کہ’’اب دیکھتے ہیں، آیندہ چند روز میں کیا صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ پھر ہم آیندہ کے قدم کے بارے میں معلومات کا انکشاف کریں گے۔‘‘

ایرانی پارلیمان کے رکن علاء الدین بروجردی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران تمام تر دھمکیوں کے باوجود جوہری سمجھوتے کی شرائط وضوابط کی پاسداری میں کمی کے لیے پُرعزم ہے۔

پارلیمان کے اسپیکر علی لاری جانی نے یکم دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر یورپ نے ڈرانے دھمکانے کے میکانزم پر عمل کیا تو ایران ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ساتھ اپنی بعض ذمے داریوں کو پورا نہ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرے گا۔‘‘

بعض یورپی ممالک نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط سے انحراف کا سلسلہ جاری رکھا تو اسی سمجھوتے میں شامل ایک میکانزم کو بروئے کار لایا جائے گا جس کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دوبارہ پابندیاں عاید کرسکتی ہے۔

اس سمجھوتے کے فریق تین یورپی ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس اس ڈیل کو بچانے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی 2018ء کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

انھوں نے ایران پر دہشت گردوں اور اپنے آلہ کار غیرملکی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات ، جہاز رانی اور بنک کاری کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

امریکا نے 24 جون کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے آٹھ کمانڈروں پربھی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے یہ اقدام خلیج میں اپنا ایک ڈرون مارگرانے کے واقعے کے ردعمل میں کیا تھا۔

آئی اے ای اے نے چند ہفتے قبل اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی میں بہت آگے چلا گیا ہے اور اس نے 3.67 فی صد کی مقررہ حد سے اعلیٰ سطح کا افزودہ یورینیم تیار کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں