’’الریاض کنسرٹ میں چاقو سے حملہ کرنے والے کو یمنی القاعدہ سے احکامات مل رہے تھے؟‘‘
سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں گذشتہ ماہ ایک لائیو کنسرٹ کے دوران میں تین فن کاروں کو چاقو گھونپنے والا مشتبہ ملزم یمن میں القاعدہ سے ملنے والے احکامات پر عمل کر رہا تھا۔سعودی سکیورٹی فورسز نے اس شخص کو چاقو حملے کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔
سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل اخباریہ نے جمعرات کو اس حملہ آور کے القاعدہ سے روابط کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یمن سے تعلق رکھنے والے اس تینتیس سالہ مشتبہ حملہ آور کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔تاہم ابھی اس کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 11 نومبر کو الریاض میں واقع شاہ عبداللہ پارک میں تفریحی میلے میں ایک کنسرٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے اور فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کررہے تھے۔اس دوران میں اس مشتبہ حملہ آور نے تین فن کاروں کو چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا تھا۔
تب سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی تھی اس چاقو حملے کے تین مجروحین میں دومرد اور ایک عورت تھی۔انھیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد مہیا کی گئی تھی۔ان کے زخم خطرناک نہیں تھے اور ان کی حالت بہتر بتائی گئی تھی۔
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ٹویٹر صارفین نے اس چاقو حملے کی مذمت کی تھی اور انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وسیع تر اصلاحات پر مبنی ویژن 2030ء کے تحت مملکت میں ہونے والے تفریحی پروگراموں کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔