.

سعودی وزارتی کونسل کا ورچوئل اجلاس،کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے منگل کے روز اپنا ورچوئل اجلاس منعقد کیا ہے اور اس میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وزراء نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کو جاری رکھنے کے لیے اضافی مالی وسائل مہیا کرنے پربھی غور کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے کہا ہے کہ کونسل نے ایک فرمان جاری کیا ہے،اس کے تحت (کرونا وائرس کا شکار) تمام شہریوں ، مکینوں اوراقامے کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وزارتی کونسل نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات پر مبنی مختلف رپورٹس کا بھی جائزہ لیا ہے۔

سعودی کابینہ نے مملکت کے مرکزی بنک سعودی مانیٹری اتھارٹی (ساما) اور دبئی فنانشیل سروسز اتھارٹی کے درمیان مالیاتی خدمات کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت کی منظوری دی ہے۔

وزارتی کونسل نے یمن کی حوثی ملیشیا کے الریاض اور جازان کے شہری علاقوں کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ سعودی شاہی فضائیہ نے حوثی ملیشیا کے الریاض اورجازان کی جانب داغے گئے دو میزائلوں کو فضاہی میں ناکارہ بنا دیا تھا اور ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔البتہ ایک میزائل کے ملبے کے ٹکڑے لگنے سے دو افراد معمولی زخمی ہوگئے تھے۔