.

تونسی خاتون رہ نما کا اخوان پر داعش کی مدد سے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام

اخوان نے میرے قتل کے لیے لیبیا سے داعشی جنگجو تونس بھیجے: عبیر موسیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس کی ایک خاتون سیاست دان اور پارلیمنٹ کی رکن عبیر موسیٰ نے اخوان المسلمون پر الزام عاید کیا ہے اس نے میرے قتل کے لیے لیبیا سے داعش کے جنگجو تونس منتقل کیے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں عبیر موسیٰ نے کہا کہ مجھے اخوان المسلمون کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ آپ کو کار بم دھماکے میں ہلاک کیا جائے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا کہ اخوان المسلمون کے لوگ میری نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تونس کی دستور پارٹی کے پارلیمانی گروپ کی چیئرپرسن عبیر موسیٰ نے کہا کہ اخوان عناصر نے میرے قتل کے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے داعش سے مدد حاصل کی اور داعشی جنگجوئوں کو لیبیا سے تونس منتقل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے قتل کی دھمکی انتہائی خطرناک پیش رفت ہے۔ میرے تحفظ کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور سیکیورٹی اداروں پرعاید ہوتی ہے۔

قبل ازیں عبیر موسیٰ نے ملک کی مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ پر الزام عاید کیا کہ النہضہ نے تونس کو قطر اور ترکی کے ہاتھ پر گروی رکھ دیا ہے۔