.

پومپیو نے چین کو ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا ،،، چین اور ایران کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت کو روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنے ایک تازہ ریڈیو بیان میں پومپیو کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کو ہتھیار فروخت کرنا چاہتے ہیں ان میں ایک ملک چین بھی ہے ،،، وہ اس طرح بڑے پیمانے پر نفع حاصل کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق چین ،،، ایران سے بعض عسکری سسٹم خریدے گا لہذا لازم ہے کہ ایسا ہونے سے روکا جائے۔

پومپیو نے واضح کیا کہ اگر چین نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی کی تو واشنگٹن چین کو ذمے دار ٹھہرانے پر مجبور ہو جائے گا۔

پومپیو کے مطابق ایران اور چین دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی کرنے والے ممالک ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ موسم خزاں میں ایران پر دوبارہ سے بین الاقوامی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔ اس طرح چین اور ایران کے درمیان تعامل کے مواقع کم ہو جائیں گے۔

اس سے قبل گذشتہ منگل کو امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر باور کرایا تھا کہ اُن کا ملک ایران کے احتساب اور خطے میں اس کی تخریبی سرگرمیاں روکنے کا عزم رکھتا ہے۔ اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پومپیو نے لکھا کہ "امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں (اسنیپ بیک) دوبارہ فعال کرنے اور تہران پر ہتھیاروں کی پابندی برقرار رکھنے کے ذریعے ایران کی تمام تخریبی سرگرمیوں کا احتساب کیا جائے گا .. وہ ہی سرگرمیاں جن کو جوہری معاہدہ تحریر کرنے والوں نے حماقت کے سبب نظر انداز کر دیا تھا"۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔