.

سوڈان کا امریکا سے عرب،اسرائیل امن اور دہشت گردی کی فہرست سے نام کےاخراج پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی اور امریکی حکام نے عرب ،اسرائیل امن عمل کو آگے بڑھانے اور امریکا کی دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے ممالک کی فہرست سے سوڈان کے نام کے اخراج کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

سوڈانی وفد اور امریکی حکام کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ملاقات ہوئی ہے اور اس میں انھوں نے خطے میں امن واستحکام اور اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔

یو اے ای اور بحرین نے گذشتہ ہفتے ہی امریکا کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔یو اے ای نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے امریکا دوسرے ممالک سے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے بارے میں بات چیت کررہا ہے۔

اگست میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے بارے میں بیان دیا تھا۔ تاہم سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے ان پر واضح کیا تھا کہ انھیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔

سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں ایک وفد گذشتہ اتوار کو یو اے ای پہنچا تھا اور انھوں نے امریکی حکام سے مختلف امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس وفد کی خرطوم واپسی کے بعد سوڈان کی حکمراں خود مختار کونسل نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ طرفین نے سوڈان کے خطے میں امن کے قیام میں ممکنہ کردار کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔

سوڈانی وفد نے امریکی وفد سے اپنے ملک کا نام دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے ممالک کی فہرست سے اخراج کے لیے بالخصوص بات چیت کی ہے۔ اس فہرست میں نام شامل ہونے کی وجہ سے سوڈان اقتصادی بحران سے عہدہ برآ ہونے کے لیے غیرملکی قرضے حاصل نہیں کرسکتا ہے۔

سوڈان کی خود مختار کونسل فوجی قیادت اور سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ وہ سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیر کی برطرفی کے بعد سے ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات سوڈان میں ایک حساس موضوع رہے ہیں۔عمرالبشیر کے دورحکومت میں سوڈان کو سخت گیر عرب مخالفین میں سے ایک خیال کیا جاتا تھا۔

فروری میں عبدالفتاح البرہان نے یوگنڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی لیکن سوڈانیوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔اس کے بعد انھوں نے اسرائیل کے ساتھ تیزی سے تعلقات استوار کرنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔تاہم اس کے بعد اسرائیلی طیارے سوڈان میں اترتے اور وہاں سے اڑان بھرتے دیکھے گئے ہیں۔