نوید افکاری کی پھانسی ،انسانی حقوق کی پامالیاں؛امریکا کی ایرانی ججوں اورجیلوں پر پابندیاں
امریکا نے ایران میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی پر متعدد ایرانی عہدے داروں ، اداروں اور ایرانی ریسلر کو سزائے موت سنانے والے ججوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور ان پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کے روز ایک بیان میں ان پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا نے جج سیّد محمود ساداتی ، جج محمد سلطانی ،شیراز میں واقع انقلابی عدالت کی شاخ ایک اور عادل آباد ، ارمیہ اور وکیل آباد میں واقع جیلوں پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔
قبل ازیں امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامس نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران میں عوام کی آزادیوں کو سلب اور انھیں انصاف کی فراہمی کا انکارکرنےوالوں کو قابل مواخذہ قرار دینے کو تیار ہے۔
ایرانی ریسلر نوید افکاری کو اسی ماہ ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ان پر 2018ء میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں اس سکیورٹی اہلکار کو چاقو گھونپ کر قتل کرنے نے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔
ان کی پھانسی کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ایران کی عدالت عظمیٰ نے نوید افکاری کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کردی تھی۔
نوید افکاری کی سزائے موت کے خلاف ایرانیوں اور انسانی حقوق کے علمبردار بین الاقوامی گروپوں نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ماہ کے اوائل میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ریسلر کی سزائے موت پر عمل درآمد نہ کرے۔
متاثرہ خاندان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’’ نوید افکاری سے تشدد کے ذریعے اقرار جرم کرایا گیا تھا جبکہ وہ بعد میں اپنے اس اعترافی بیان سے منحرف ہوگئے تھے مگر اس کے باوجود عدالت نے انھیں سزائے موت سنا دی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دو روز پہلے ہی ایران کی وزارت دفاع اور اس کے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ افراد پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان کے علاوہ امریکا نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف بھی نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان کے خلاف یہ قدغنیں ان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے الزام میں عاید کی گئی ہیں۔