آذربائیجان کی شرائط قبول نہیں، طویل جنگ کے لیے تیار ہیں: ناگورنو کاراباخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نگورنو کاراباخ ریجن کے صدر آرائیک ہیروتنیان کا کہنا ہے کہ ان کے ریجن کے لیے آذربائیجان کی شرائط قبول کرنا اور جمہوریہ آرتساخ (نگورنو کاراباخ کی غیر تسلیم شدہ جمہوریہ) کی تاریخ ختم کر دینا ممکن نہیں ہے۔

اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر وہ لوگ طویل مدت جنگ کے خواہاں ہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں"۔

ہیروتنیان کا کہنا تھا کہ "اگر آذربائیجان نے پر امن حل تسلیم نہ کیا تو میں آرمینیا اور دیگر ممالک سے جمہوریہ آرتساخ کی خود مختاری تسلم کرنے کا مطالبہ کروں گا"۔

آرمینیائی رہ نما نے باور کرایا کہ ان کی اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان لڑائی کے محاذوں پر آج کے دن کل سے زیادہ سکون ہے۔ تاہم یہ صورت حال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائرنگ اور مارٹر گولوں کے تبادلے کے کچھ واقعات ہوئے ہیں۔

اس سے قبل آج اتوار کو ہی آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے دوسرے بڑے شہر گنجہ پر بم باری میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ ساتھ ہی آرمینیائی فورسز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے انسانی بنیادوں پر اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود حملہ کیا۔

وزارت خارجہ نے ٹویٹر پر لکھا کہ "آرمینیائی فوج نے گنجہ شہر کے رہائشی علاقے پر میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے"۔

واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان دونوں ممالک روسی وساطت سے ہفتے کے روز سے نگورنو کاراباخ ریجن میں فائر بندی پر آمادہ ہو گئے تھے۔ یہ پیش رفت دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد سامنے آئی۔ یہ جھڑپیں گذشتہ چوتھائی صدی کے دوران علاحدگی پسند ریجن میں بدترین معاندانہ کارروائیاں ہیں۔

تاہم فریقین نے فوری طور پر ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے نئے حملوں کے ذریعے فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

اسی طرح دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مقصد قیدیوں کا تبادلہ اور لاشوں کی واپسی ہے۔ مزید یہ کہ آنے والے وقت میں متعین تفصیلات پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں