.

جوبائیڈن کی جیت؟ مائیک پومپیو کا دوسری ٹرمپ انتظامیہ کو محفوظ انتقالِ اقتدار کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد دنیا سے ملک میں محفوظ انتقال اقتدار کا وعدہ کیا ہے لیکن انھوں نے نومنتخب صدر جوزف بائیڈن کی واضح جیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی بدستور برسراقتدار رہیں گے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’دوسری ٹرمپ انتظامیہ کو بالکل سیدھے سبھاؤ اقتدار منتقل ہوگا۔‘‘ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ انتقال اقتدار کے ضمن میں جوبائیڈن کی ٹیم سے رابطے میں ہیں۔

اس پر مائیک پومپیو نے وضاحت کی:’’دنیا کو ہرطرح سے اعتماد ہونا چاہیے کہ محکمہ خارجہ ضروری انتقال اقتدارکو یقینی بنانے کے لیے آج مکمل طور پر فعال ہے۔اس وقت برسراقتدار صدر ہی کو 20جنوری کی دوپہر کے ایک منٹ کے بعد کامیابی سے اقتدار منتقل ہوگا۔‘‘وہ امریکا کے نئے صدر کی حلف برداری کی تاریخ کا حوالہ دے رہے تھے۔

امریکا کے اتحادی ممالک سمیت دنیا بھر کے لیڈروں نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد پیش کی ہے۔انھیں امریکا کی اہم ریاستوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد اپنے حریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ناقابل شکست برتری حاصل ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے ری پبلکن امیدوار کے مقابلے میں ملک بھر سے 30 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

3 نومبر کو منعقدہ صدارتی انتخابات میں ان کی اس کامیابی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پرفراڈ اور دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے ہیں اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔

مائیک پومپیو سے جب اس تناظر میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا امریکا اب بھی دنیا بھر میں آزاد انتخابات کرانے سے متعلق بیانات جاری کرسکتا ہے یا کرتا رہے گا تو انھوں نے کوئی مناسب جواب دینے کے بجائے اس سوال ہی کومضحکہ خیز قراردے دیا۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس محکمہ کو دنیا بھر میں انتخابات کے محفوظ ،آزاد اور شفاف انعقاد میں گہری دلچسپی ہے اور میرے افسر اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘‘