.

امریکا نے 'بی 52' جنگی طیارے خلیج میں بھیج دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ٹی وی چینل کے ذرائع نے جمعہ کے روز بتایا کہ امریکا خلیج میں اپنے دو 'بی 52' بمبارطیارے بھیج رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بی 52s آپریشن کے علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "آئزن ہاور" طیارہ بردار جہاز افغانستان سے فوجیوں کے انخلا میں مدد کے لیے وہاں موجود رہے گا۔

ایسوسی ایٹ پریس نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز افغانستان سے انخلا کے دوران امریکی افواج کے تحفظ کے کام کی قیادت کرے گا۔

نجی ذرائع نے واشنگٹن میں العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی امریکی افواج مرکزی علاقے کی طرف جارہی ہیں۔

ان ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "آئزن ہاور" اب اس مشن کی مدد میں بحیرہ عرب خطے میں ہے اور یہ کہ اس مشن کی مدد میں بی 52s فضا میں اڑ رہے ہیں۔

پندرہ اپریل کو امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیلیویژن خطاب میں اعلان کیا کہ امریکا افغانستان سے فوج کی جلد واپسی شروع کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو اور امریکی افواج کو وطن واپس لایا جائے۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں فوجی مداخلت کے بعد سے اب تک 2300 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اور اس ملک میں امریکی فوج کی موجودگی پر امریکا کو اربوں کا نقصان ہوا ہے۔