یمنی حکومت نے ہفتے کی شام بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ورلڈ فوڈ پروگرام سے وابستہ گندم کے جہاز کو الحدیدہ بندرگاہ پرگندم اتارنے سے روک دیا جس کے بعد گندم بردار بحری جہازکو وہاں سے دوسری بندرگاہوں کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے۔
یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے انسانی امدادی کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کو اپنے قبضے کی سازش کا واضح ثبوت ہے۔
١-قيام مليشيا الحوثي المدعومة من ايران بمنع إنزال حمولة السفينة "غلوريس سي" التابعة لبرنامج الغذاء العالمي والتي تحمل12500 طن من القمح، وإجبارها على الخروج ومغادرة ميناء الحديدة، امتداد لنهج المليشيا في عرقلة عمليات الاغاثة الانسانية وعرقلة أداء المنظمات الدولية في مناطق سيطرتها
— معمر الإرياني (@ERYANIM) June 19, 2021
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اپنے ٹویٹر پیج پر ٹویٹس میں کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے جہاز "گلوریس سی" سے گندم اتارنے سے روک دیا۔ اس پر بارہ ہزار پانچ سو ٹن گندم لادی گئی ہے۔ یہ گندم یمن میں جنگ زدہ عوام کے لیے عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔
الاریانی نے مزید کہا کہ یہ کارروائی حوثی دہشت گرد ملیشیا کی غربت اور افلاس کی پالیسی کی تصدیق کرتی ہے۔اس سے انسانی المیہ اور اس کے زیر اقتدار علاقوں میں بسنے والے لاکھوں بے گھر لوگوں کے حالات زندگی سے لاتعلقی کا واضح ثبوت ہے۔