شام میں عراق کے ساتھ سرحد پر امریکی فضائی حملوں میں ایران نواز گروپوں کے کم از کم 5 ارکان ہلاک ہو گئے۔ یہ بات آج پیر کو شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتائی۔
ایک امریکی ذمے دار کے مطابق شام اور عراق میں ایرانی ملیشیاؤں پر حملوں کے لیے درست نشانے کے حامل ہتھیار استعمال کیے گئے۔
المرصد کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے عراق شام سرحد اور شامی اراضی کے اندر ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے عسکری مراکز اور ان کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ان ملیشیاؤں کے کم از کم 5 ارکان مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔
مراسل #العربية: ٤ قتلى من ميليشيات الحشد العراقي بالقصف الأميركي على منشآت داخل #سوريا pic.twitter.com/wrU3S2fT17
— العربية (@AlArabiya) June 27, 2021
دوسری جانب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق "اتوار اور پیر کی درمیانی شب دیر الزور صوبے کے انتہائی مشرق میں عراق کے ساتھ سرحدی علاقے کو لڑاکا طیاروں کے ذریعے فضائی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ایک بچہ جاں بحق اور تین شہری زخمی ہو گئے"۔
امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ فضائی بم باری، عراق میں ان گروپوں کی جانب سے امریکی اہل کاروں اور تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "حالیہ حملوں سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکیوں کی حفاظت کے لیے حرکت میں آنے کے لیے پُر عزم ہیں"۔
پینٹاگان نے العربیہ کو دیے گئے خصوصی بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس فوجی کارروائی کے بعد رد عمل کے حوالے سے اندیشے پائے جا رہے ہیں۔
پینٹاگان کے سرکاری ترجمان جون کیربی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ امریکی حملوں میں شام میں دو اور عراق میں ایک مقام پر آپریشنل تنصیبات اور ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام مقامات سرحدی علاقوں میں واقع ہیں۔ نشانہ بنائے جانے والے مقامات کو ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے استعملا کیا جا رہا تھا۔ ان ملیشیاؤں میں حزب اللہ بریگیڈز اور سید الشہداء بریگیڈز شامل ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے حق کے سلسلے میں کی۔ خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ حملہ ضروری تھا۔
-
عراق میں ایرانی پراکسی ملیشیائیں امریکا کے لیے خطرہ ہیں: نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عراق میں ایرانی ...
بين الاقوامى -
کیا پینٹاگان عراق میں ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے ؟
امریکی وزارت دفاع عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو نشانہ بنانے پر غور ...
بين الاقوامى -
عراق سے شام میں ایرانی ملیشیاؤں کو میزائلوں کی نئی کھیپ کی منتقلی
انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ عراق سے مختصر ...
مشرق وسطی -
امریکا: ایران نواز عراقی ملیشیاؤں پر پابندیوں کا قانون پیش
امریکی کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی خارجہ پالیسی کی قیادت نے جمعے کے روز دو قوانین ...
بين الاقوامى