طالبان نے افغان لوک گلوکارفواد اندرابی کو بے دردی سے قتل کردیا: سابق وزیر
افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے ایک لوک گلوکار کو بے دردی سے قتل کردیا ہے۔افغانستان کے سابق وزیرداخلہ مسعود اندرابی نے ہفتے کو ایک ٹویٹ میں ان کے قتل کی اطلاع دی ہے۔
مسعود اندرابی نے بتایا ہے کہ ’’طالبان نے گاؤں اندراب میں فواد اندرابی کوبڑے بہیمانہ انداز میں قتل کیا ہے۔‘‘ اندراب وادیِ پنج شیر کے نزدیک واقع ہے جہاں طالبان کو احمدمسعود کے زیرقیادت ملیشیاؤں اور سابق فوجیوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
Taliban’s brutality continues in Andarab. Today they brutally killed folkloric singer, Fawad Andarabi who simply was brining joy to this valley and its people. As he sang here “our beautiful valley….land of our forefathers…” will not submit to Taliban’s brutality. pic.twitter.com/3Jc1DnpqDH
— Masoud Andarabi (@andarabi) August 28, 2021
طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کے چند روز بعد ہی عوامی مقامات پر موسیقی پرپابندی عاید کردی تھی۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مبیّنہ طورپرامریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’’اسلام میں موسیقی کی ممانعت ہے۔ ہم اس کو ترک کرنے کے لیے لوگوں پر دباؤ نہیں ڈالیں گے بلکہ اس کے بجائے یہ امید کرتے ہیں،ہم انھیں اس بات پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ اس طرح کے کام نہ کریں۔‘‘
طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ماضی میں 1996ء سے 2001ء تک اپنی پہلی حکومت کے مقابلےمیں نرم لب ولہجہ اختیارکیا ہے لیکن اس کے باوجود مختلف حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہارکیا جارہا ہے کہ وہ جبرواستبداد پر مبنی معاندانہ کارروائیاں کرسکتے ہیں۔
افغانستان کی ایک پاپ سنگرآریانا سعید نے انسٹاگرام پر21 اگست کو ایک پوسٹ میں اطلاع دی تھی کہ وہ ملک سے راہ فراراختیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور وہ استنبول جارہی ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ منگل کو اپنی پریس کانفرنس میں خواتین اور بچّوں سے کہا تھا کہ وہ فی الوقت اپنے گھروں ہی میں رہیں کیونکہ طالبان جنگجوؤں کی ایسی تربیت نہیں ہوئی ہے کہ وہ ان کے تحفظ کویقینی بنا سکیں۔