ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے چار اگست 2020ء کو بیروت کی ایک بندرگاہ پر ہونے والے خوفناک دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس طارق البیطار کو کیس کی سماعت جاری رکھنے پرسنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔
حزب الله عبر وفيق صفا بعث برسالة تهديد الى القاضي طارق بيطار مفادها : واصلة معنا منك للمنخار، رح نمشي معك للآخر بالمسار القانوني واذا ما مشي الحال رح نقبعك.
— edmondsassine ادمون ساسين (@edmondsassine) September 21, 2021
فكانت اجابة بيطار: فداه، بيمون كيف ما كانت التطييرة منو.
حمى_ الله_ البيطار
لبنان کے ایک سینیر صحافی ادمن ساسین نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کی جس میں اس نے لکھا کہ حزب اللہ کے جسٹس طارق بیطار کو بیروت بندرگاہ ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات جاری رکھنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے جاری دھمکی آمیز بیان میں جسٹس بیطار سے کہاگیا ہے کہ اگروہ کیس کی سماعت جاری رکھتے ہیں تو انہیں اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
طلب النائب العام لدى محكمة التمييز القاضي غسان عويدات من المحقق العدلي في جريمة انفجار مرفأ بيروت القاضي طارق بيطار اعداد تقرير حول ما يتم تداوله عن رسالة شفهية وصلته بالواسطة من السيد وفيق صفا
— النيابة العامة اللبنانية (@ProsecutorGenLB) September 21, 2021
ٹویٹ پر جواب میں حزب اللہ نواز ایک دوسرے صحافی نے ادمن ساسین پر تنقید کی اور جج کو دھمکی سے متعلق ان کے دعوے کو من گھڑت قرار دیا تاہم ساسین نے کہا کہ ان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ حزب اللہ کے رابطہ یونٹ کے عہدیدار وفیق صفا نے جسٹس طارق بیطار کو عہدے سے برطرف کرنے دھمکی دی تھی۔
خیال رہے کہ 4ا گست 2020ء کو بیروت کی ایک بندرگاہ میں ہونے والے خوفناک دھماکوں میں 214 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری حزب اللہ پرعاید کی گئی تھی۔ حزب اللہ ملیشیا اس خوفناک واقعے کی تحقیقات میں بھی اب رکاوٹیں کھڑی کرنے لگی ہے۔