.

وڈیو : حوثیوں کے حملوں سے دہشت زدہ یمنی بچے کی ہذیانی آہ و بکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر چند منٹ پر مشتمل ایک نئی وڈیو سامنے آئی ہے۔ یہ وڈیو مارب صوبے کے ضلع الجوبہ کے ایک یمنی بچے کی ہے۔ وڈیو میں وہ زخمی حالت میں ہسپتال کے بستر پر چلاتا اور آہ و بکا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ وڈیو اُن شہروں کے بچوں پر طاری خوف و دہشت کو ظاہر کرتی ہے جن کو حوثی ملیشیا کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان وحشیانہ کارروائیوں نے عسکری یا شہری اور بڑے یا بچوں کسی کو بھی نہیں بخشا ہے۔

یہ وڈیو یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے پیر کی شام اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کی۔ وڈیو میں حوثیوں کے راکٹ سے زخمی ہونے والا ایک بچہ ہسپتال کے بستر پر علاج کے دوران ہذیانی کیفیت میں بول رہا ہے "حوثیوں نے حملہ کر دیا ، حوثیوں نے حملہ کر دیا .... انہوں نے دھماکے سے اڑا دیا"۔

الاریانی نے اس جذباتی منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ " ایک منظر جو یہ بیان کر رہا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کس طرح یمنی بچوں کے لیے دہشت کی علامت بن چکی ہے۔ یہ الجوبہ ضلع کا ایک بچہ ہے جو اپنے گاؤں اور گھر پر حوثی ملیشیا کے حملے کے بارے میں ہذیانی کیفیت میں بات کر رہا ہے"۔

یمنی وزیر کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بھڑکائی گئی جنگ نے یمن کے لاکھوں بچوں کے ساتھ یہ کیا ہے۔ جی ہاں وہ بچے جو دنیا کے دیگر بچوں کے بر خلاف تعلیم اور معمول کی طبعی زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے اتوار کے روز مارب صوبے کے جنوبی ضلع الجوبہ میں ایک گاؤں میں وحشیانہ حملہ کیا۔ العمود نامی گاؤں پر دو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے نتیجے میں 39 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ الاریانی کے مطابق حملے میں ایک مسجد اور دارالحدیث کو نشانہ بنایا گیا۔ العمود گاؤں مقامی آبادی اور ضلع کے باہر سے نقل مکانی کر کے آنے والے خاندانوں سے بھرا ہوا ہے۔

اسی طرح جمعرات کے روز بھی حوثی ملیشیا نے العمود گاؤں میں قبائلی شخصیت شیخ عبداللطيف القبلی کے گھر پر ایک بیسلٹک میزائل داغا تھا۔ اس کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت 12 شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔