حوثیوں کی جانب سے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے سے متعلق دل دوز تفصیلات سامنے آ گئیں
باغی ملیشیا بچوں کی بھرتی کے لیے اسکولوں اور مساجد کا استعمال کرنے سے باز رہے: اقوام متحدہ
یمن کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اپنے زیر اثر علاقوں میں یمنی بچوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے مساجد اور اسکولوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
اسی طرح رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے دس سے سترہ برس کے چودہ سو سے زیادہ بچوں کو بھرتی کیا گیا۔ یہ بچے 2020ء کے دوران میں ہونے والے معرکوں میں مارے گئے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بچوں کی بھرتی کرنے والے حوثی عناصر پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ڈرون طیارے ، میزائل اور دھماکا خیز آلات اکٹھا کیے۔
اسی طرح واضح کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ برس بڑے پیمانے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھائیں۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں یمن کے نائب مندوب مروان نعمان نے ستمبر 2021ء میں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے 2014ء کے بعد سے 35 ہزار سے زیادہ یمنی بچوں کو بھرتی کیا۔ ان میں 17% کی عمر 11 برس سے کم ہے جب کہ 6700 سے زیادہ بچے اب بھی لڑائی کے محاذوں پر موجود ہیں۔
یمن میں انسانی حقوق کا نیٹ ورک یہ تصدیق کر چکا ہے کہ یمنی بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے 20977 واقعات سامنے آئے۔ علاوہ ازیں جنوری 2017ء سے مارچ 2021ء تک حوثیوں کے ہاتھوں 43 ہزار سے زیادہ یمنی بچے جبری ہجرت اور نقل مکانی کا شکار ہوئے۔