یمن اور حوثی

حوثی ملیشیا افریقی طالبات کو "الزینبیات بریگیڈز" میں بھرتی کرنے کے لیے سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق ایک افریقی خاتون کارکن حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن میں موجود افریقی طالبات کو حوثی ملیشیا کے زیر انتظام "الزینبیات" کے نام سے معروف خواتین کی سیکورٹی تشکیل میں بھرتی کر رہے ہیں۔

عرفات جبریل ایک خاتون ایڈوکیٹ اور انسانی حقوق کی تنظیم "دی اورومو" کی صدر ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی طالبات کو جو صنعاء کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں ،،، دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ حوثیوں نے "الزینبیات" فورس میں شمولیت کے بغیر ان طالبات کو وزارتی سطح کے امتھانات میں شرکت سے بھی روک دیا ہے۔ الزینبیات فورس حوثی ملیشیا کی خواتین کا مسلح ونگ ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب حوثیوں کی جانب سے براعظم افریقا سے تعلق رکھنے والی طالبات کو بھرتی کرنے اور لڑائی کے محاذوں پر اپنے شانہ بشانہ شریک کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سے قبل حوثی باغی افریقی مہاجرین کو بھی بھرتی کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ حوثی ملیشیا گذشتہ برسوں کے دوران میں ہزاروں یمنی خواتین کو سیکورٹی اور عسکری گروپوں میں جھونک چکی ہے۔ ان خواتین کو اسلحہ دے کر انہیں لڑائی کے لیے مختلف طریقوں سے تربیت دی گئی۔ ان کو الزینبیات بریگیڈز کا نام دیا گیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے الزینبیات بریگیڈز کو مختلف مشن اور ذمے داریاں سونپیں۔ ان میں گھروں پر چھاپے مارنا ، خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار اور اغوا کرنا ، جاسوسی کرنا اور خواتین سماجی کارکنان کی سرگرمیوں کو کچلنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں