روس اور یوکرین

کریملین کے ترجمان کی صاحب زادی کی جنگ مخالف ٹویٹ ’حذف‘

روس میں یوکرین کے خلاف جنگ میں عوامی سطح پر مخالفت،تین ہزار مظاہرین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روس نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران میڈیا کی زبان کی رفتار کو ایڈجسٹ کرنے کا اعلان کیا تاکہ کسی ایسےبیانیے کو روکا جا سکے جو اس کی جنگ کے لیے نقصان ثابت ہو رہا ہو۔

روسی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے مقامی میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ یوکرین کے خلاف جاری آپریشن کے دوران "حملہ"، چڑھائی" یا "اعلان جنگ" کی اصطلاحات کااستعمال نہ کرے۔ اس میں سیاسی شخصیات اور ان کے خاندانوں کی طرف سے شایع ہونے والے بیانات کوبھی شامل کیا گیا ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب روسی حکام کے بیٹوں، خاص طور پر نوجوانوں میں ملک میں جنگ مخالف جذبات میں اضافے کے ساتھ فوجی آپریشن کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔

"جنگ نہیں"

بہت سے سینیر روسی حکام خاموش رہے مگر ان کے بیٹے جنگ کی مذمت کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹوں کے ایک طوفان میں شامل ہوئے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کی 24 سالہ بیٹی لیزا پیسکووا نے انسٹاگرام پر ایک تصویر پوسٹ کی جس کے عنوان کے ساتھ لکھا ہے "جنگ نہیں!

لیکن اس نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ کیے بغیر اسے حذف کر دیا۔

اس سے چند گھنٹے قبل روسی تاجراور چیلسی کلب کے مالک رومن ابرامووچ کی بیٹی صوفیہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شائع کی تھی جس میں اس نے زور دے کر کہا تھا کہ "یہ جنگ مسٹر پوتین کی ہے روسی عوام کی نہیں"۔

انہوں نے لکھا کہ کریملن کے پروپیگنڈے میں سب سے بڑا اور کامیاب جھوٹ یہ ہے کہ زیادہ تر روسی پوتین کے ساتھ ہیں۔

"امن کی بحالی"

دریں اثنا روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کی بیٹی کی منگیتر بلاگر الیکسی سٹولیاروف نے اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ سب سے بڑا تحفہ "امن کی بحالی" ہو گا۔

سابق روسی صدر بورس یلسن کی نوعمر پوتی ماریا یوماشیوا نے ٹویٹ کیا "نو وار"۔

روس کے 24 سالہ ٹینس کھلاڑی آندرے روبلیو جمعہ کو ایک میچ جیتنے کے بعد کیمرے پر "برائے مہربانی جنگ بند کریں" لکھ کر احتجاج میں شامل ہوئے۔

تین ہزار مظاہرین گرفتار

یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی حکام نے تین دنوں میں تین ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے یوکرین میں فوجی آپریشن کی مذمت کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم "OVD-info" نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ روسی فوج اور پولیس جنگ مخالف مظاہرین کو گرفتار کررہی ہے۔

تنظیم نے بتایا کہ جمعرات کو حملے کے آغاز کے بعد سے کم از کم 3,052 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں 467 شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں