سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے عراق کے صوبہ کردستان دارالحکومت اربیل میں ایران کے میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ مُملکت عراق میں ملک کی سلامتی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔
بیان میں سعودی عرب نے عراق کے ساتھ یکجہتی اور عراق کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت اور ہر قسم کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بغداد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
عراقی سیکیورٹی میڈیا سیل نے اطلاع دی تھی کہ اتوار کو فجر کے بعد اربیل شہر پر متعدد میزائلوں سے حملہ کیا گیا جو مختلف مقامات پر گرے۔ عراقی حکام نے ان حملوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
کردستان کاؤنٹر ٹیررازم سروس نےکہا کہ یہ حملہ "12 بیلسٹک میزائل" کے ساتھ کیا گیا "خطے کی سرحدوں کے باہر سے خاص طور پر مشرق سے" فائر کیا گیا۔
انہوں نے ایک بیان میں واضح کیا کہ میزائلوں کا رخ امریکی قونصل خانے کی طرف تھا، لیکن ان کے نتیجے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔
-
عراق کو مختلف قوتوں کے درمیان جنگ کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے: کاظمی
ایران کی طرف سے عراق کے نیم خود مختار صوبے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی ...
مشرق وسطی -
عراق کا اربیل میں حملے پرایران سے ’’واضح وضاحت‘‘کا مطالبہ،سفیرکی طلبی
عراق کی وزارتی کونسل برائے قومی سلامتی نے اتوار کے روز خودمختارکردستان کے علاقائی ...
مشرق وسطی -
ایران سے عراقی کردستان کے صدر مقام اربیل پر 12 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ
امریکی قونصل خانے کے قریب کردستان24 ٹی وی چینل کا سٹوڈیو حملے میں تباہ
مشرق وسطی