ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زایدآل نہیان اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امورپرتبادلہ خیال کیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز بورس جانسن تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظرمیں متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پرابوظبی پہنچے تھے۔اطلاعات کے مطابق یوکرین پرحملے کے ردعمل میں روس کے خلاف تیل اورگیس کی برآمدات پرپابندیوں کے نفاذکے بعد برطانوی ویراعظم کے دورے کا مقصدعرب تیل برآمد کنندگان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
وہ آج ہی سعودی عرب جارہے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
ابوظبی میں ملاقات میں شیخ محمد اور جانسن نے علاقائی اوربین الاقوامی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت، خاص طور پر یوکرین میں جاری بحران اوراس کے انسانی مضمرات پرتبادلہ خیال کیا ہےاور شہریوں پرانسانی صورت حال کےاثرات کوکم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کوتیز کرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے۔
شیخ محمد نے علاقائی اوربین الاقوامی سلامتی اور استحکام اورمختلف ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے سفارتی اور پرامن حل کی کوششوں میں متحدہ عرب امارات کی حمایت کااعادہ کیا۔
بورس جانسن نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ برطانیہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ باہمی مفادات کی تکمیل کے لیے دوطرفہ تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کومضبوط بنانے کے لیے دوطرفہ تعاون اور اشتراک کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کے دفترنے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’بورس جانسن اور شیخ محمد نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور توانائی کی سلامتی، دفاع اور تجارت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اوراشتراک بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا ہے‘‘۔
Today Prime Minister @BorisJohnnson met the Crown Prince of the UAE @MohamedBinZayed.
— UK Prime Minister (@10DowningStreet) March 16, 2022
They welcomed the longstanding partnership between our two countries and discussed opportunities to increase collaboration on energy security, defence and trade.
🇬🇧🇦🇪 pic.twitter.com/R0e3FnGA22