اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے 48ویں وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں یمن کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یمن میں انسانی بحران سنگین تر ہورہا ہے۔‘
انھوں نے سعودی عرب میں شہری آبادی پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسی ماہ الریاض، سعودی عرب میں یمن پر امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ شام بحران کے پرامن حل، عراق میں استحکام، افریقی ساحل چاڈ خطے میں امن چاہتے ہیں۔
ابراہیم طحہ کے مطابق رواں او آئی سی اجلاس کا موضوع یعنی اشتراک برائے اتحاد، انصاف اور ترقی کا مرکزی خیال مسلم امہ کی امیدوں کا مرکز ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل مسلسل فلسطین اور مسجد الاقصیٰ پر نو آبادیاتی تسلط بڑھا رہا ہے،بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور فلسطینی عوام پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے مسلم امہ کو باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب میں بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں وکشمیر میں پانچ اگست 2019 کے غاصبانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کے تحت منصفانہ حل کے لیے او آئی سی کو کردار ادا کرنا ہو گا۔‘