خلیجی جنگ کے دوران لوگوں کی کہانیوں اور اس مرحلے کی تفصیلات پر مشتمل فلم آئندہ ماہ سعودی فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی ’من ذاکرۃ الشمال‘ کے عنوان سے تیار کی گئی فلم کے ہدایت کار عبدالمحسن المطیری ہیں۔
اس فلم میں خلیجی جنگ کے دوران 1990-1991 کے درمیانی عرصے میں سماجی زاویوں سے تقریباً 10 مختلف کہانیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف نقطہ نظر سے سعودی عرب کے اندر جنگ کی یادوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کیونکہ خلیجی جنگ ان اہم موضوعات میں سے ایک ہے جس نے ڈرامائی اور سینما دونوں پر مناسب طریقے سے توجہ نہیں دی گئی۔
فلم کی کہانی
ہدایت کار عبدالمحسن المطیری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فلم میموری آف دی نارتھ ایک دستاویزی فلم ہے جو خلیج کے بحران کے دوران ماضی میں ہماری یادوں کے دوران پیش آنے والے حالات سے لے کر مختلف مقامی سماجی کہانیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں مزاحیہ، افسوسناک پہلوؤں کے ساتھ ساتھ جو چیز اس فلم کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں سعودی عرب کے کئی خطوں کی کہانیاں شامل ہیں جن میں ماضی کی اچھی نسلوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ فلم کا دورانیہ 45 منٹ ہے اور اسے آئندہ جون کے شروع میں اور دو اگست کو سعودی فلم فیسٹیول میں دکھایا جائے گا۔ فلم میں کلپس اور تصاویر دکھائی جائیں گی۔ اس فلم میں پہلی بار تقریباً 15 مہمانوں نے اپنی یاداشتیں بیان کی ہیں۔ ان کے بیان کردہ واقعات میں خلیجی بحران کے دوران کے واقعات کو شامل کیا گیا۔ یہ فلم شو میڈیا اور فائیو کلرز نے پروڈیوس کی ہے، جس کی ہدایت کاری عبدالمحسن المطیری نے کی اور سلطان العید اور طارق الرویلی نے پروڈیوسر کے طور پر کام کیا۔
-
سعودی عرب:84 ہزار پھولوں سے سجا گل دستہ گینز بک میں شامل
سعودی عرب کے شہر طائف میں گلاب کے پھولوں سے سجایا دنیا کا سب سے بڑا گلدستہ گینز بک ...
مشرق وسطی -
امریکا کاسعودی عرب کوبیرونی خطرات سے نمٹنے میں مدد دینے کےعزم کا اعادہ
پینٹاگون میں امریکی اورسعودی حکام کے درمیان چین کے بارے میں واشنگٹن کے نقطہ نظر ...
بين الاقوامى -
کان فلمی میلہ: سعودی پویلین فلم سازوں کے اجتماع کا مرکز بن گی
فرانس میں جاری 75 ویں کین فلمی میلے میں عرب سینیما کو قابل ذکر توجہ حاصل ہو رہی ...
بين الاقوامى