متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زایدآل نہیان نے استنبول میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن اور وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو سے ہفتے کے روز الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کےمختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہے۔
یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ان ملاقاتوں میں یوکرین کے بحران سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورپر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
شاوش اوغلو سے ملاقات میں شیخ عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے رہنما ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شراکت داری کو مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔
اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شیخ عبداللہ نے کہا کہ یہ شراکت داری اماراتی اور ترک عوام کی امنگوں کے حصول اور دونوں ممالک کی علاقائی حیثیت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہاکہ قابلِ تجدید توانائی ان شعبوں میں سے ایک ہے جن میں متحدہ عرب امارات ترکی کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانےمیں دلچسپی رکھتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ شعبہ نہ صرف تجارتی سطح پرکامیاب ہے بلکہ ان ممالک کے لیے بھی اہم ہے جو دنیا میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
شیخ عبداللہ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں قریباً 50ارب درہم (13.6 ارب ڈالر) تک اضافے پر بھی روشنی ڈالی۔انھوں نے اس اضافے کی وجہ یواے ای اور ترکی کی حکومتوں کی محنت کو قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم نے دو سال کے دوران میں دوطرفہ تجارت میں 82 فی صد اضافہ کیا ہے۔
انھوں نےکہا کہ ہم نہ صرف ترکی کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں بلکہ افریقا، لاطینی امریکا، وسط ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے دیگرممالک میں بھی ترکی کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
شیخ عبداللہ نے بتایا کہ بات چیت میں علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوں خصوصاً غذائی تحفظ سے متعلق امورپر بھی غورکیا گیا ہے۔انھوں نے دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کوبڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
انھوں نے شاوش اوغلوکے حالیہ دورۂ اسرائیل پر بھی بات چیت کی جہاں ترک وزیرخارجہ نے اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے ملاقات کی۔
انھوں نے میزبان وزیرخارجہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’فلسطینیوں اوراسرائیلیوں کی بات چیت کی طرف لوٹنے کی حوصلہ افزائی بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس دورے میں آپ نے فلسطینیوں اوراسرائیلیوں کو اس تعطل کو ختم کرنے کی ترغیب دینے کے حوالے سے جو کچھ کیا،وہ بہت اہم ہے‘‘۔