مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے دھاوے قابل مذمت، اسرائیل خلاف ورزیاں بند کرے: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردن کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز اسرائیلی آباد کاروں اور کنیسٹ کے ایک رکن کے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی اجازت دینے کی مذمت کرتے ہوئے یروشلم میں "اشتعال انگیز" فلیگ مارچ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اردن نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نام نہاد فلیگ مارچ کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔

اردنی وزارت خارجہ نے ’ٹویٹر‘ پر شائع بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ میں دراندازی موجودہ تاریخی اور قانونی اسٹیس اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ مسجد اقصیٰ مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے جس پر کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کا کوئی حق نہیں۔ القدس اوقاف اور اردن میں مسجد اقصیٰ کے امور کا محکمہ حرم قدسی کے امور کا ذمہ دار ہے جو قبلہ اول میں نمازیون کے داخلے کو منظم کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اقدامات بند کرے اور مسلمانوں کے مقدس مقام کا احترام یقینی بنائے۔

ادھر اردن نے مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت کی اور اسرائیل سے "خلاف ورزیاں" بند کرنے کا مطالبہ کیا

اردن کی وزارت خارجہ اور امور خارجہ نے اتوار کے روز اسرائیلی آباد کاروں اور کنیسٹ کے ایک رکن کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی اجازت دینے کی مذمت کرتے ہوئے یروشلم میں "اشتعال انگیز اور بڑھتے ہوئے" مارچ کی اجازت دینے کی روشنی میں صورت حال مزید خراب ہونے کا انتباہ دیا۔ فلیگ مارچ کے حوالے سے۔

ادھر فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے آج اطلاع دی ہے کہ 500 سے زیادہ آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ آباد کار اسرائیلی پولیس کے سخت پہرے میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ قابض پولیس نے القبلی مسجد میں جنازہ گاہ کو بند کر دیا اور نمازیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ قابض پولیس نے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کے دوران کم سے کم 10 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پولیس نے باب السلسلہ کے قریب موجود چار فلسطینی جوانوں کو حراست میں لے لیا۔

ایک دوسری پیش رفت میں یہودی آبادکاروں نے جنوبی بیت لحم کی یہودی بستی کو جانے والی القدس شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا۔

نامعلوم سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے نے بتایا کہ یہودی آبادکاروں نے سڑک بند کر کے اسرائیلی پرچم لہرائے اور فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کے مظہر نعرے لگائے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ القدس میں یہودیوں کی پرچم بردار ریلی کے موقع پر متوقع جھڑپوں کے پیش نظر اسرائیل نے بڑے پیمانے پر اپنے فوجی دستے باب العمود کے علاقے میں تعینات کر رکھے ہیں۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کئے جا رہے ہیں جب 48 کو اسرائیلی قبضے میں جانے والے علاقوں سے بڑے پیمانے پر فلسطینی مسجد اقصیٰ داخل ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورس ان فلسطینیوں کو القدس داخل ہونے سے روک رہی ہے۔

یہودی آباد کاروں نے القدس میں اتوار کے روز گرینچ کے معیاری وقت دن ایک بجے پرچم بردار ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس موقع پر تین ہزار اسرائیلی فوجی تعینات کئے جائیں گے۔ فلیگ مارچ القدس کے قدیمی شہر میں مسلمانوں کی کالونی سے گذرتے ہوئے باب العمود پہنچے گا۔

اسرائیلی اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی پولیس پرچم بردار ریلی کے موقع پر القدس سمیت فلسطین کے طول وعرض میں پائے جانے والی کشیدگی کے باوجود انتہا پسند یہودی رکن کنیسٹ ایتمار بن گویر کو اتوار کے روز مسجد اقصیٰ آنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں