پولیس حکام کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی بیانات دینے والی حکمران جماعت کی سابقہ ترجمان کا سر قلم کرنے کی دھمکی دینے والے نوجوان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یوٹیوب پر نشر کی جانے والی اس ویڈیو کو بھارتی حکام نے اتار لیا تھا تاکہ مذہبی کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔
بھارت کے مسلمان، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی [بی جے پی] کے دو ترجمانوں کی جانب سے اسلام مخالف بیانات پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اس سے قبل بی جے پی نے اپنی مرکزی ترجمان نوپور شرما کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی بیانات پر پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی اور ان کے تحت کام کرنے والے عہدیدار نوین جندل کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔
بی جے پی کے سابق اراکین کے بیانات پر بہت سے مسلم ممالک نے بھی بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا۔ قطر، سعودی عرب، یو اے ای، عمان اور ایران نے بھارت سے سفارتی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
پچھلے ہفتے کے دوران بھارتی وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کی تھی یہ بیانات بھارتی حکومت کی پالیسی کے عکاس نہیں ہیں۔
متنازعہ بیانات کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ مشرقی شہر رانچی میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران دو نوعمر لڑکے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔
-
رانچی: بھارتی پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان مظاہرین جاں بحق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے خلاف مسلمانوں کا جگہ جگہ احتجاج
بين الاقوامى -
سعودی عرب:بی جے پی کی ترجمان کے اہانتِ رسول ﷺ پر مبنی جارحانہ تبصرے کی مذمت
عالم اسلام کا سخت ردِّعمل،پاکستان کاعالمی برادری سے بھارت میں اسلاموفوبیا کی سنگین ...
ایڈیٹر کی پسند