روسی صدرپوتین اب بھی تمام یوکرین پرقبضہ کرنے کے خواہاں ہیں:امریکی عہدہ دار
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک سینیرعہدہ دار نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپوتین اب بھی تمام یوکرین پر قبضہ کرنے کے خواہاں ہیں لیکن انھوں نے اس پرشکوک وشبہات کا اظہارکیا ہےکہ کریملن ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
انڈرسیکرٹری دفاع برائے پالیسی کولن کاہل نے سینٹرفار نیو امریکن سکیورٹی (سی این اے ایس) میں ایک تقریب میں کہاکہ ’’میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ وہ (پوتین) اگر پورے ملک پر نہیں تویوکرین کےایک اہم حصے پرقبضے کا ارادہ رکھتے ہیں۔کاہل نے مزید کہا:’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔
پینٹاگون کے عہدہ دار کا کہنا تھا کہ امریکا کے نزدیک فروری میں یوکرین پرحالیہ حملے کے آغازکے بعد صدرپوتین نے ابھی تک اپنے مجموعی مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔البتہ وہ یوکرین کے مشرق پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنے آپریشنل مقاصد کو محدود کرنے پرمجبورہوگئے ہیں۔
اس کے باوجود کاہل نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ روس یوکرین کے کچھ حصوں خصوصاً جنوب میں فائدہ اٹھا رہا ہے اوریوکرینی دفاع نے کوئی بڑی اور وسیع کامیابیاں حاصل نہیں کی ہیں۔
امریکا روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کواربوں ڈالر کی فوجی امداد مہیا کررہا ہے اوراس کی نئی امداد کی کھیپ جلد یوکرین پہنچ جائے گی۔ہتھیاروں کی اس تازہ قسط میں ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم (ایم ایل آر ایس) اور ہائی موبلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم یا ہیمارس شامل ہیں۔
کاہل نے کہا کہ یوکرینیوں کو ان دونوں نظاموں کے استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔قبل ازیں انھوں نے کہا تھا کہ یوکرینی فوج کو سوویت دور کے توپ خانے کے نظام کا سازوسامان مہیا کرنا زیادہ مشکل امرتھا۔یہی وجہ ہے کہ امریکا نے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے مہیا کردہ ہم آہنگ اورقابل استعمال نظاموں میں منتقلی کا فیصلہ کیا اور اب توقع کی جارہی ہے کہ یوکرینی فوجیوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد ہیمارس نظام جلد ہی روس کے خلاف ’’لڑائی میں شامل‘‘ ہوجائے گا۔
کاہل نے کہا کہ مجموعی طورپرپوتین اب تک اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انھوں نے یوکرین کو ختم کرنے کی کوشش میں یہ جنگ شروع کی تھی۔