امریکا نے بدھ کے روز روس کے ساتھ چین کی طرفداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جن ممالک نے یوکرین پر حملہ کرنے میں روسی صدر ولادیمیر پوتین کا ساتھ دیا وہ "تاریخ کی غلط سمت پر کھڑے ہیں۔"
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ "چین غیر جانبدار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روس کے ساتھ قریبی تعلقات میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔"
روس کی خودمختاری کی حمایت
قبل ازیں چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سےفون پر بات کی تھی۔ ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا تھا کہ ان کا ملک روس کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
چینی صدرنے کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ مستحکم دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین دو طرفہ تجارتی تعاون کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے روس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں موجودہ واقعات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا میکانزم موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ"اس سال کے آغاز سے، عالمی تبدیلیوں اور دنیا میں عدم استحکام کے باوجود، چین اور روس کے تعلقات نے ترقی کی اچھی رفتار کو برقرار رکھا ہے"۔
چینی صدر نے پیوٹن کو قومی سلامتی کے معاملات میں روس کی مدد کرنے پر آمادگی کا بھی یقین دلایا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین روسی توانائی کے وسائل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ بن گیا ہے۔ روس اور چین کے درمیان پہلا آٹوموبائل پل ’بلاگووویچنسک‘ 10 جون کو کھولا گیا۔ اس پل سے ٹرکوں میں سویا بین کا تیل چین لے جایا گیا تھا۔ نیا پل اگست کے آخر تک سفر کے لیے فری ہوگا۔