روس اور یوکرین

روس نے مشرقی یوکرین میں امریکی ساختہ دوہیمارس تباہ کردیے،کیف نے دعویٰ مستردکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے مشرقی یوکرین میں امریکا کے تیارکردہ دوجدید ہیمارس راکٹ سسٹم اوران کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کردیے ہیں جبکہ یوکرین نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

ماسکو نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہائی موبلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز (ہیمارس) کے دولانچرتباہ کیے ہیں۔ہتھیاروں کا یہ نظام امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو مہیّا کیا ہے۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ روسی فورسز نے یوکرین کے علاقے دونیتسک میں کرماٹورسک کے جنوب میں واقع ایک گاؤں میں جنگی محاذکے قریب ہیمارس کے لیے راکٹ ذخیرہ کرنے والے گولہ بارود کے دوڈپو بھی تباہ کردیے ہیں۔گذشتہ اتوارکو لوہانسک پر قبضے کے بعد یہ اسلحہ ڈپو روسی فوجیوں کا ہدف تھے۔

وزارت نے ایک ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے،اس میں ہیمارس اور اسلحہ ڈپوؤں کو تباہ کرنے کے لیے حملہ دکھایا گیا ہے۔تاہم آزادانہ طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یوکرین کے جنرل اسٹاف نے بعد میں روس کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ ٹویٹرپرایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دعوے ’’جعلی‘‘ ہیں اور وہ روسی افواج پر’’تباہ کن حملوں‘‘کے لیے امریکا کی جانب سے مہیا کردہ ہیمارس کا استعمال کر رہا ہے۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین کوجولائی کے اوائل تک صرف چار ہیمارس نظام ملے تھے۔امریکا نے جولائی کے وسط تک یوکرین کو آٹھ ہیمارس مہیاکرنے کا وعدہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی دستیابی ان ہزاروں روسی فوجیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوششوں میں انتہائی اہم رہی ہے جو ماسکو نے 24 فروری کو اپنے پڑوسی ملک میں بھیجے تھے۔روس یوکرین پراس چڑھائی کو’’خصوصی فوجی کارروائی‘‘کا نام دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں