ایران میں ''سٹریٹجک دفاعی نظام'' کو نشانہ بنایا ہے: اسرائیلی افواج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایران کی ''سٹریٹجک دفاعی تنصیبات'' کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔

اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ فوج نے تہران پر بھی تازہ حملہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں اسرائیلی جنگی طیاروں کو تہران کی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر شیراز کے ہوائی اڈے کے قریب بھی بمباری کی گئی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق تہران کے اوپر ایک ''دشمن ڈرون'' کو فضائی دفاعی نظام نے روکا ہے۔ یہ دعویٰ ایرانی خبر رساں ایجنسی ''مہر ''نے کیا ہے، جو دوپہر کے وقت دارالحکومت میں زور دار دھماکے کی آواز سننے کے بعد سامنے آیا۔

تہران میں ایک اور بڑا دھماکہ بھی سنا گیا، جس کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں حملوں کا تبادلہ مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں جنگی طیاروں نے انٹیلی جنس معلومات کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ایران کے ''سٹریٹجک دفاعی نظام'' کو نشانہ بنایا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ایران کے مختلف علاقوں میں دفاعی نظام دوبارہ تعینات کیے گئے تھے، جو ''آپریشن زئیر الاسد ''کے دوران نقصان پہنچنے کے بعد ریڈار اور دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کی کوششوں کا حصہ تھے۔ بیان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ان دفاعی نظاموں کو تباہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مبینہ امریکی،اسرائیلی حملے کے جواب میں اسرائیلی شہر حیفا میں اسی نوعیت کے ایک ہدف پر میزائل حملہ کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں غیر فوجی یا توانائی سے متعلق تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا ،تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات ہوں گے اور اس کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں