اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایران کی ''سٹریٹجک دفاعی تنصیبات'' کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔
اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ فوج نے تہران پر بھی تازہ حملہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں اسرائیلی جنگی طیاروں کو تہران کی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر شیراز کے ہوائی اڈے کے قریب بھی بمباری کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران کے اوپر ایک ''دشمن ڈرون'' کو فضائی دفاعی نظام نے روکا ہے۔ یہ دعویٰ ایرانی خبر رساں ایجنسی ''مہر ''نے کیا ہے، جو دوپہر کے وقت دارالحکومت میں زور دار دھماکے کی آواز سننے کے بعد سامنے آیا۔
مباشر من قناة العربية | إيران تطلق صواريخ على إسرائيل منذ الليلة الماضية..والأخيرة ترد بغارات واسعة على مناطق متفرقة في إيران https://t.co/y9famBcS4X
— العربية (@AlArabiya) June 8, 2026
تہران میں ایک اور بڑا دھماکہ بھی سنا گیا، جس کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں حملوں کا تبادلہ مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں جنگی طیاروں نے انٹیلی جنس معلومات کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ایران کے ''سٹریٹجک دفاعی نظام'' کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ایران کے مختلف علاقوں میں دفاعی نظام دوبارہ تعینات کیے گئے تھے، جو ''آپریشن زئیر الاسد ''کے دوران نقصان پہنچنے کے بعد ریڈار اور دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کی کوششوں کا حصہ تھے۔ بیان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ان دفاعی نظاموں کو تباہ کر دیا گیا۔
الجيش الإسرائيلي: أنهينا ضربة واسعة استهدفت أنظمة دفاع استراتيجية في إيران pic.twitter.com/tw2Gpq6RQ4
— العربية (@AlArabiya) June 8, 2026
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مبینہ امریکی،اسرائیلی حملے کے جواب میں اسرائیلی شہر حیفا میں اسی نوعیت کے ایک ہدف پر میزائل حملہ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں غیر فوجی یا توانائی سے متعلق تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا گیا ،تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات ہوں گے اور اس کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہو گی۔