بھارت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو 65 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کردیا ہے

ایمنسٹی کے انسانی حقوق کے لیے آپریشنز بھارت میں پہلے ہی محدود تر کیے جا چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ریاست جموں و کشمیر کے علاوہ بھارتی ریاستوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کی مانیٹرنگ سے متعلقہ '' ایمنسٹی انٹرنیشنل '' کو مودی سرکار نے 8ملین ڈالر کا جرمانہ کر دیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے مودی سرکار اور بھارت ایمنسٹی کی سرگرمیوں سے پریشان رہے مگر اب انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اس ادارے کے لیے بھارت میں اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ایمنسٹی کا یہ دعوی رہا ہے کہ بھارتی شاخ کو ایک عرصے سے مودی سرکار کی طاقت کے حقیقی ذریعے ہندوتوا نظریات کی حامل انتظامیہ سے ہراسمنٹ کا سامنا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس سلوک کا سامنا ہونے کی وجہ اس کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنا اور سامنے لانا رہا ہے۔

خصوصا ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سالہا سال سے اجاگر کرنے کی وجہ سے تقریبا دو سال قبل ایمنسٹی کو اس وقت ایک بڑے دھچکے سے دوچار ہونا پڑا جب ان کے مقامی بنک میں اکاونٹس کو منجمد کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایمنسٹی کے خلاف تحقیقیات مقصد ہیں اس لیے اکاونٹس منجمد کیے گئے ہیں۔

اس بھارتی اقدام کے نتیجے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اپنے سٹاف کو تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا تو سٹاف کو فارغ کرنا پڑا اور اپنے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کومحدود اور ریسرچ ورک کو روکنا پڑا ۔ تب سے اب تک بھارت نے ایمنسٹی کو اس مشکل صورت حال میں دھکیلے رکھا اور اب ایک اور بڑا فیصلہ ایمنسٹی اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کارکنوں کے خلاف کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں اہم کردار انڈیا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو سونپا گیا۔ جسے بنیادی طور پر مالی جرائم کی تحقیقات کا کام کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایک انسانی حقوق کے ادارے سے نمٹنے کا فریضہ بھی اسی کو دیکھنا پڑا۔ اس ادارے نے یہ کام اپنی بہترین صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا ۔

جمعہ کے روز بھارت کے اسی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فارن فنڈنگ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور بیرون ملک سے ملنے والے وسائل کو بھارت کے اندر اپنے آپریشنز میں استعمال کیا ہے۔

بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایمنسٹی کی بھارتی شاخ کو 6،5 ملین ڈالر کا جرمانہ کیا گیا ہے کہ اس نے غیر قانونی طور غیر ملکی فنڈز حاصل کیے ہیں۔

اس کے سابق چیف ایگزیکٹو برائے بھارت آکر پٹیل کو 1،3 ملین ڈالر کا جرمانہ کیا گیا ہے۔ تاہم ایمنسٹی کی طرف سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ اس سے قبل ایمنسٹی بھارت کی طرف سے اپنے خلاف کارروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا ایک بہانہ قرار دیتی رہی ہے۔

2020 میں ایمنسٹی کے اکاونٹس منجمد کرنے سے بھی پہلے سے اس کے خلاف سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوٹن کی طرح بھارت بھی انسانی حقوق کے اداروں کے کام کو روکنے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

2015 میں جب مودی بر سراقتدار آئے تو ان کی حکومت بنتے ہی گرین پیس نامی این جی او کے بنک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے تھے۔ ایمنسٹی پر بھارت سے غداری کا الزام لگایا گیا۔ 2018 میں اسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایمنسٹی کے بنگلور آفس پر چھاپہ مارا اور ریکارڈ کے من پسند حصے بھارتی میڈیا کو لیک کیا ۔

بعد ازاں رواں سال کے شروع میں ایمنسٹی کی بھارتی شاخ کے سربراہ مسٹر پٹیل کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا، لیکن بھارت میں ایمنسٹی کو لاکھوں ملین ڈالر کا جرمانہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کے بعد ایمنسٹی اوردیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے کام کرنا پہلے سے بھی مشکل ہوسکتا ہے کہ یہ اس سمت میں حکومت کا بہت بڑا قدم ہے۔ جو اس نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور جمہوری ممالک کی پروا کیے بغیر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں