سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے یونان کے سرکاری دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان فوجی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں دوطرفہ تعاون کے مختلف سمجھوتے طے پائے ہیں۔
سعودی ولی عہد نے ایتھنز کے میکسی مِس پیلس میں یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکیس سے دو طرفہ ملاقات کی اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بعد میں انھوں نے مختلف سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔ان میں مفاہمت ایک یادداشت میں دونوں ملکوں کے درمیان سائنسی اور تکنیکی شعبے میں تعاون کے فروغ پر زوردیا گیا ہے۔
قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایتھنز میں اپنی آمد پرایک بیان میں کہا کہ مملکت کے یونان کے ساتھ تاریخی اور قریبی تعلقات استوارہیں۔
انھوں نے کہا ’’ہم یونان کو برقی باہمی رابطے کا نیٹ ورک بنانے میں مدد دیں گے اورگرین ہائیڈروجن منصوبوں میں تعاون کے طریقوں پرتبادلہ خیال کریں گے‘‘۔
🎥 | HRH Crown Prince and Prime Minister of #Greece hold a bilateral meeting at the Maximos Mansion in #Athens.
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) July 26, 2022
pic.twitter.com/R3Zf977NAZ
یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے ولی عہد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کے مواقع بڑھانے کے خواہاں ہیں اور س ضمن میں مختلف پہلوؤں پربات چیت کریں گے۔
انھوں نے سعودی ولی عہد کے ایتھنز کے دورے کو دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کا موقع قراردیا ہے۔
HRH the Crown Prince arrives in #Greece and was received by the Deputy Prime Minister of Greece. 🇸🇦🇬🇷
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) July 26, 2022
pic.twitter.com/ldMkgJgUVp
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان سرکاری دورے پرایتھنز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے تو یونانی نائب وزیراعظم پاناگیوٹس پیکرمینوس نے ان کا استقبال کیا۔
اس کے بعد انھیں ایک سرکاری جلوس کی شکل میں یونانی دارالحکومت میں وزیراعظم کے صدر دفتر میکسی مَس محل میں لے جایا گیا جہاں ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔بعد میں انھوں نے یونانی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔