اسرائیلی خفیہ ادارے "موساد" نے پہلی بار ارجنٹائن میں اسرائیلی سفارت خانے میں خودکش بم حملہ کرنے والے شخص کی تصویر اور شناخت جاری کی ہے۔
خودکش بمبار کے بارے میں دی گئی معلومات کے مطابق وہ لبنانی محمد نورالدین نورالدین ہے۔ اس کی عمر 24 سال تھی جب وہ برازیل، پیرا گوئے اور ارجنٹائن کے درمیان "مثلث بارڈر" کے علاقے میں بھرتی ہوا تھا۔ اس نے 17 مارچ 1992 کو بارود سے لدی ایک وین سے ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں اسرائیلی سفارت خانے کے دروازے کے سامنے دھماکہ کیا۔
آپریشن کے نتیجے میں 29 افراد مارے گئے جن میں سفارت خانے کے 9 افراد اور وہاں پر آنے والے مہمان ویزٹر شامل تھے۔ مہلوکین میں قونصل جنرل اور سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری کی اہلیہ، 3 تعمیراتی کارکن، ایک ٹیکسی ڈرائیور، 3 راہگیر ،قریبی چرچ کے ایک پادری اور 3 بزرگ شامل تھے۔ اس حملے میں 242 افراد زخمی ہوئے تھے۔
جہاں تک گذشتہ روز موساد کی جانب سے نئی اشاعت کا تعلق ہے تو اس تصویر سے ارجنٹائن کی نیوز ویب سائٹ Infobae کو ملنے والی 42 صفحات پر مشتمل رپورٹ کی تکمیل ہوتی ہے۔ گذشتہ ہفتے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں ارجنٹائن میں اسرائیلی سفارت خانے پر اس حملے میں ایران کو بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں صرف لبنانی حزب اللہ ملوث ہے۔
محمد نورالدین کے بارے میں تصویر کے ساتھ فراہم کردہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے عسکری ونگ "اسلامی جہاد" کا ایک نچلے درجے کا رکن تھا اور وہ جنوبی برازیل کے پڑوسی شہر "فوز دو ایگواؤ" میں مقیم تھا۔ ان کے والد کا نام نورالدین نورالدین اور والدہ کا نام فاطمہ یونس ہے۔ نورالدین کے تین بھائی علی، نمر اور ہادی ہیں۔
نورالدین کی یہ تصویر پہلی بار سنہ 1992 میں ’Al-AHD‘ اخبار نے شائع کی تھی۔ مگر ساتھ ہی لکھا تھا کہ وہ سربیا میں لڑائی میں مارا گیا تھا۔