مقتول اسرائیلی ایتھلیٹس کی یادگار پر نازی سیلیوٹ کرنے پر جرمن شہری گرفتار
میونخ اولمپکس [1972] میں قتل کیے گئے اسرائیلی کھلاڑیوں کی یادگار پر جا کر ایک گروپ کے سامنے ہٹلر کا مشہور اور ممنوعہ نازی سیلیوٹ کرنے پر ایک جرمن سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کر لیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی یورپی چیمپئن شپ ٹیم کے 16 کھلاڑی منگل کی شام میونخ کے اولمپک پارک کا دورہ کر رہے تھے جب سکیورٹی گارڈ کی جانب سے یہ ممنوعہ اشارہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وہاں موجود چار سکیورٹی گارڈز میں سے ایک کو شام 7 بجکر 20 منٹ کے قریب نیشنل سوشلسٹ اشارہ یا ہٹلر کا مشہور نازی سیلیوٹ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس نے برلن سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ مشتبہ شخص کو فوری طور پر گرفتار کر لیا اور اس کی یورپی چیمپئن شپ کے تمام مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے خود اس اشارے پر توجہ نہیں دی تھی۔
یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب 1972 میں ہونے والے مذکورہ اولمپکس کے قتل عام کی 50ویں برسی سے قبل میونخ اب یورپی چیمپئن شپ کی میزبانی کر رہا تھا، اس قتل عام میں 11 اسرائیلیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
پانچ ستمبر 1972 کو آٹھ مسلح افراد نے اولمپک ولیج میں اسرائیلی ٹیم کے فلیٹ میں گھس کر دو کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد نو اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور دھمکی دی کہ اگر 232 فلسطینی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تو ان 9 افراد کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔
مغربی جرمنی کی پولیس نے انتہائی نااہلی کے بعد جلد بازی میں ریسکیو آپریشن کیا تھا جس میں یرغمال بنائے گئے تمام 9 افراد مار دیے گئے تھے جبکہ یرغمال بنانے والے 8 میں سے پانچ ملزمان بھی مارے گئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ساڑھے چار کروڑ یورو معاوضے کے طور پر ملے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے اور انہوں نے اس سانحے کی آئندہ تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔